سعودی عرب کا 2018 کے بعد بھی تیل پیدا کرنے والے ممالک سے تعاون کا مطالبہ
مکمل توازن کا حصول جلد ممکن نہیں: الفالح مسقط: وائل مہدی کل سعودی عرب نے تیل پیدار کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس تنظیم سے باہر دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک سے 2018 کے بعد ایک نیا "فریم ورک” قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ان کے […]
مکمل توازن کا حصول جلد ممکن نہیں: الفالح

مسقط: وائل مہدی
کل سعودی عرب نے تیل پیدار کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس تنظیم سے باہر دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک سے 2018 کے بعد ایک نیا "فریم ورک” قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ان کے مابین تیل کی پیداوار میں کمی کا معاہدہ امسال ختم ہو جائے گا۔
سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے مسقط میں معاہدے کی نگرانی کرنے والی مشترکہ وزراء کمیٹی کے اجلاس سے قبل بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنی کوششوں کو صرف 2018 تک محدود نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیں مزید تعاون کے لئے ایک فریم ورک پر تبادلہ خیال کرنا ہوگا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے فریم ورک میں توسیع کے بارے میں بات کی ہے جو ہم نے شروع کیا تھا (۔۔۔) کہ اسے 2018 کے بعد تک وسعت دی جائے”۔ (۔۔۔)