کردوں کے بھاری ہتھیار کی وجہ سے امریکی ترکی تنازعات میں اضافہ
اردن کے شاہ کی طرف سے شام کے بحران میں پوٹین کے کردار کی تعریف اور ماسکو کی طرف سے امریکی حملہ میں ایک روسی فرد کی موت کی تصدیق ماسكو: رائد جبر انقرة: سعيد عبد الرازق انقرہ نے واشنگٹن سے از سر نو کردی قوم کی اس حمایتی یونٹس […]
اردن کے شاہ کی طرف سے شام کے بحران میں پوٹین کے کردار کی تعریف اور ماسکو کی طرف سے امریکی حملہ میں ایک روسی فرد کی موت کی تصدیق

ماسكو: رائد جبر انقرة: سعيد عبد الرازق
انقرہ نے واشنگٹن سے از سر نو کردی قوم کی اس حمایتی یونٹس سے جس میں شام کی ڈیموکریٹک فورسز کا مرکزی کردار ہے ان سے شام کے مشرق میں بھاری ہتھیار لینے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ اور ترکی تعلقات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔(۔۔۔) اور کل شام امریکی وزیر اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کرد کو ہتھیار فراہم کرنے کی فائل ہی غالب رہی۔(۔۔۔)
اسی سلسلہ میں اردن کے شاہ عبد اللہ ثانی نے کل ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران شامی بحران کو حل کرنے کے سلسلہ میں روس اور صدر پوٹن کے کردار کی تعریف کی ہے۔
کل دوسری طرف روس نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ شامی انتظامیہ کے ہمنوا فورسز پر واشنگٹن کی رہنمائی میں بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے کیے جانے والے حملہ میں ظاہری طور پر روس کے پانچ شہری ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ بھی واضح کیا کہ ان کا تعلق روس کی فوج سے نہیں ہے۔
جمعہ – 30 جمادی الاول 1440 ہجری – 16 فروری 2018ء شمارہ نمبر: (14325)