چین کے "ون بیلٹ ون روڈ” کے "متبادل” امریکی اقدام
بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تبادلہ خیال سیڈنی – لندن: "الشرق الاوسط” ایک اہم امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی آسٹریلیا، بھارت اور جاپان کے ساتھ مل کر چین کے "ون بیلٹ ون روڈ” کا متبادلہ براعظمی بنیادی ڈھانچے کے مشترکہ منصوبے کا جائزہ
بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تبادلہ خیال

سیڈنی – لندن: "الشرق الاوسط”
ایک اہم امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی آسٹریلیا، بھارت اور جاپان کے ساتھ مل کر چین کے "ون بیلٹ ون روڈ” کا متبادلہ براعظمی بنیادی ڈھانچے کے مشترکہ منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے (۔۔۔) تاکہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ (۔۔۔)
چین نے پہلی بار سنہ 2013 میں "ون بیلٹ ون روڈ” کے منصوبے کا اعلان کیا تھا (۔۔۔) یہ منصوبہ جس میں چین کو براعظم یورپ سے شاہراہ ریشم کے ذریعے ملاءا جانا ہے اس کے بنیادی ڈھانچے پر اربوں ڈالر خرچ کیا جائے گا۔