روسی "ویٹو” یمن میں ایران کی مذمت کو ختم کر رہا ہے
سلامتی کونسل پابندیوں کی مدت میں تکنیکی توسیع کا جائزہ لے رہی ہے ۔۔۔ اور واشنگٹن ماسکو کو تہران کے خلاف اکسا رہا ہے نیویارک: علی بردی کل روس نے سلامتی کونسل میں برطانیہ کی طرف سے فرانس اور امریکہ کی حمایت کے ساتھ پیش کردہ قرار داد پر اپنا "ویٹو” […]
سلامتی کونسل پابندیوں کی مدت میں تکنیکی توسیع کا جائزہ لے رہی ہے ۔۔۔ اور واشنگٹن ماسکو کو تہران کے خلاف اکسا رہا ہے

نیویارک: علی بردی
کل روس نے سلامتی کونسل میں برطانیہ کی طرف سے فرانس اور امریکہ کی حمایت کے ساتھ پیش کردہ قرار داد پر اپنا "ویٹو” کا حق استعمال کیا ہے۔ جبکہ پیش کردہ اس مسودہ قرار داد میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کے جواب میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایران نے یمن کی حوثی جماعت کو ہتھیار اور خاص طور پر بیلسٹک میزائل فراہم کئے؛ جو سعودی عرب کے شہری علاقوں پر داغے گئے، اس کے علاوہ انہیں فوجی ڈرون طیارے فراہم کرکے سلامتی کونسل کی قرار داد 2140 اور 2216 کی خلاف ورزی کی ہے۔ (۔۔۔)
بعد ازاں، کونسل کے اراکین نے 15 ممالک کی اکثریت کے ساتھ روسی قرار داد پر رائے شماری کی گئی اور اسے قرار داد 2402 کا نمبر دیا گیا۔ جبکہ قرار داد 2140 کے تحت یمن پر 2014 سے جاری بین الاقوامی پابندیوں میں محض فروری 2019 تک توسیع کی گئی ہے۔
رائے شماری کے بعد، اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ نکی ہیلی نے روس کے لئے ایک سخت بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا: "اگر روس ایران کے خطرناک اور امن وامان کو خراب کرنے والے رویے کے خلاف کاروائی کی روک تھام کے لئے اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتا ہے تو پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کو ایران کے خلاف اقدامات کرنا ہونگے اور روس اسے روک نہیں سکے گا”۔