واشنگٹن کی طرف سے غوطہ کی صفائی کو درست کرنے کے سلسلہ میں ماسکو کی کوششوں میں رکاوٹ
ڈی میسٹورا کی طرف سے "حلب منظر نامہ” مسترد نيويارك: علي بردى ریاستہائے متحدہ امریکہ نے سختی کے ساتھ شام کے سلسلہ میں صدارتی بیان کے اس منصوبہ کو مسترد کیا ہے جس کی تجویز روس نے سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کے سامنے اس مقصد سے رکھا ہے تاکہ اسے […]
ڈی میسٹورا کی طرف سے "حلب منظر نامہ” مسترد

نيويارك: علي بردى
ریاستہائے متحدہ امریکہ نے سختی کے ساتھ شام کے سلسلہ میں صدارتی بیان کے اس منصوبہ کو مسترد کیا ہے جس کی تجویز روس نے سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کے سامنے اس مقصد سے رکھا ہے تاکہ اسے مشرقی غوطہ میں تقریبا چار ہزار محاصرین کو نکالنے کے لیے ماسکو کی طرف سے نام نہاد انسانی راستہ کے امن وامان کے لیے بین الاقوامی سایہ حاصل ہو سکے اور روس کی اس کوشش کو ایک مغربی ڈیپلومیٹک نے علاقہ کو اس کے شہریوں سے پاک کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔(۔۔۔)
ایک وقت اقوام متحدہ کے سفیر اسٹیفن ڈی میسٹورا نے کہا کہ اقوام متحدہ تیس دن کے لیے مکمل طور پر فائر بندی کو نافذ کرنے کے مطالبہ کے سلسلہ میں امید ہرگز نہیں کھوئے گا اور انہوں نے مزید کہا کہ ہم پرعزم ہیں ورنہ یہ علاقہ بھی حلب کی فوٹو کاپی کی صورت اختیار کر لیگا اور اس بات میں اشارہ مشرقی حلب کی اس جنگ کی طرف ہے جو سنہ 2016ء کے آخر میں مخالف جماعتوں کو وہاں سے نکال کر ختم ہوئی ہے۔
جمعہ – 14 جمادی الاول 1440 ہجری – 02 مارچ 2018ء شمارہ نمبر: (14339)