پہلا صفحہ
عراقی انتخابات میں عراقی گلوکار اسٹار امیدوار
"الشرق الأوسط” سے فاضل عواد کی گفتگو: میرا ترجیحی کام مظلومون اور فنکاروں کی حمایت ہے بغداد: "الشرق الأوسط” مبصرین کے مطابق 12 مئی کو ہونے والے عراقی انتخابات میں حیرت انگیز جو بات ہے وہ اس "الوطنیہ” اتحاد کے ضمن میں گلوکار فاضل عواد کی امیدواری ہے جس کے [&
"الشرق الأوسط” سے فاضل عواد کی گفتگو: میرا ترجیحی کام مظلومون اور فنکاروں کی حمایت ہے

بغداد: "الشرق الأوسط”
مبصرین کے مطابق 12 مئی کو ہونے والے عراقی انتخابات میں حیرت انگیز جو بات ہے وہ اس "الوطنیہ” اتحاد کے ضمن میں گلوکار فاضل عواد کی امیدواری ہے جس کے رہنماء سابق وزیر اعظم ہیں اور یہ اس لیے کہ پہلے عراقی گلوکار پارلیمان کے رکن کے لیے امیدوار ہوں۔
1942 میں بغداد کے اندر پیدا ہونے والے فاضل عواد اپنے ہم سروں سے اس طور پر ممتاز ہیں کہ انہوں نے مستنصریہ یونیورسٹی سے عربی ادب میں ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔
فاضل عواد نے اپنی امیدواری کی وجہ کے سلسلہ میں "الشرق الأوسط” سے کہا کہ ملک میں پارلیمانی اعلی ترین قانون ساز ہے اور ان کی آواز سنی جائے گی اور اس کے ذریعہ مظلوموں اور فنکاروں کی حمایت کرنا چاہتا ہوں اور یہی میرا ترجیح کام ہے اور عواد نے اشارہ کیا ہے کہ ان کے پاس انتخابی پروگرام کے عام نقطۂ نظر میں (قومی فہرست) کے ساتھ اپنے معاہدہ کے باوجود ایک پروگرام ہے اور خاص مقاصد ہیں ۔(۔۔۔)
بدھ- 2 شعبان 1439 ہجری – 18 اپريل 2018 ء – شمارہ نمبر (14386)