ایران
خفیہ جنگ کی وجہ سے ایرانی اور اسرائیلی کشمکش میں اضافہ
"موساد” ایجنٹوں کا تہران کے قریب "جوہری” سٹور تک رسائی اور میزائل گودام پر بمباری سے قبل شام کے راڈار کے سلسلہ میں تشویش بیروت – لندن – تل ابيب: "الشرق الاوسط” مغربی سفارتی ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ روایتی اور الیکٹرانک خفیہ ج
"موساد” ایجنٹوں کا تہران کے قریب "جوہری” سٹور تک رسائی اور میزائل گودام پر بمباری سے قبل شام کے راڈار کے سلسلہ میں تشویش

بیروت – لندن – تل ابيب: "الشرق الاوسط”
مغربی سفارتی ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ روایتی اور الیکٹرانک خفیہ جنگ کی وجہ سے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی حکام نے شام میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست تصادم ہونے کی توقع کی ہے۔
ذرائع نے واضح کیا ہے کہ شام میں خفیہ جنگ کے اشارے کئی مرتبہ ظاہر ہوئے ہیں اور تازہ ترین الیکٹرانک جنگ دو ہفتے پہلے شامی رڈار نظام کے خلاف ظاہر ہوا ہے۔(۔۔۔) ذرائع نے یہ بھی کہا کہ یہ تشویش اتوار اور پیر کی رات ہونے والے ان حملوں سے پہلے ریڈارز نظام کو چیک کرنا تھا جن حملوں میں ایران کے ریف حماۃ والے اس میزائل اسٹور کو اسرائیل نے نشانہ بنایا جسے ایران نے بہت پہلے جمع کیا تھا اور یہ حملہ اس حملہ کے جواب میں ہوا جو شام کے درمیان میں واقع ڈرون جہاز پر مشتمل ٹی فور نامی ایئر بیس پر کیا گیا تھا جہاں سے مقبوضہ شامی گولان کے ماحول کے لئے ایک جہاز کو بھیجا گیا تھا۔
اسی سلسلہ میں ایک سینئر اسرائیلی سیکورٹی ذریعہ نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نے دریافت کیا ہے کہ اسرائیلی موساد ادارہ کی طرف سے دراندازی کی کاروائی تہران کے قریب اس اسٹور میں ہوا ہے جس کا استعمال خاص طور پر ایٹمی پروگرام کی فائلوں کو رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے اسے تل ابیب منتقل کر دیا ہے۔(۔۔۔)
بدھ – 16 شعبان 1439 ہجری – 02 مئی 2018ء شمارہ نمبر: (14300)