پہلا صفحہ
حوثیوں کی طرف سے موت کی سزاؤوں میں تیزی اور اپنے رہنماؤں کے قتل کا سلسلہ جاری
صنعاء: "الشرق الاوسط” صنعاء میں حوثیوں کی تابع ایک عدالت نے تین شہریوں کو ان کے القاعدہ سے منسلک ہونے اور ان پر قانون کی حمایت کرنے والے اتحادی ممالک کے ساتھ جاسوسی کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد پھانسی کا فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلہ کے ذریعہ […]

صنعاء: "الشرق الاوسط”
صنعاء میں حوثیوں کی تابع ایک عدالت نے تین شہریوں کو ان کے القاعدہ سے منسلک ہونے اور ان پر قانون کی حمایت کرنے والے اتحادی ممالک کے ساتھ جاسوسی کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد پھانسی کا فیصلہ سنا دیا ہے اور اس فیصلہ کے ذریعہ حوثی گروہ کے لیڈر کے رشتہ دار مہدی مشاط کے ذمہ داری سنبھالنے کے پہلے ہفتے کے دوران موت کی سزا سنائے جانے والے افراد کی تعداد 12 ہو چکی ہے اور مہدی مشاط باغی حکومت کے ایوان کے صدر اپنے سابق رہنما صالح الصماد کے قتل کے بعد بنے ہیں۔
صنعا میں فائل کے پیروی کرنے والوں نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ میلیشیاء مشاط کی نئی پالیسی کے مطابق غیر معمولی انداز میں سزائے موت کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ سب کچھ اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اور آواز بلند نہ کرنے پر مجبور کرنے کے مقصد سے ان کی صفوں میں گھبراہٹ پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
حوثی رہنماؤں کے قتل کا بھی سلسلہ جاری ہے کیونکہ میدانی ذرائع نے بتایا ہے کہ صبری عبد الكريم سالمين کو قتل کر دیا گیا ہے اور جماعت کی طرف سے ان کا انتخاب سرحدی محافظوں کی دوسری بریگیڈ کے کمانڈر کے طور پر ہوا تھا اور وہ عرب اتحاد کے حملہ میں صعدہ کے شمال میں اپنے دوستوں کے ساتھ البقع فرنٹ پر ہلاک ہوئے ہیں۔(۔۔۔)
بدھ – 16 شعبان 1439 ہجری – 02 مئی 2018ء شمارہ نمبر: (14300)