پہلا صفحہ

شام میں سب سے بڑی اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد کشمکش کو کنٹرول کرنے کی کوششیں

28 جہازوں کا تہران اور حزب اللہ کے درجنوں جگہوں پر بمباری اور تل ابیب کے موقف کے لیے امریکی اور برطانوی حمایت واشنگٹن: هبة القدسي تل ابيب – موسكو – لندن: "الشرق الاوسط” ماسکو ایک طرف اسرائیل کی طرف سے ایران اور شام کے درمیان ہونے والی کشمکش کو کنٹرول […]

شام میں سب سے بڑی اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد کشمکش کو کنٹرول کرنے کی کوششیں
28 جہازوں کا تہران اور حزب اللہ کے درجنوں جگہوں پر بمباری اور تل ابیب کے موقف کے لیے امریکی اور برطانوی حمایت

واشنگٹن: هبة القدسي تل ابيب – موسكو – لندن: "الشرق الاوسط”

ماسکو ایک طرف اسرائیل کی طرف سے ایران اور شام کے درمیان ہونے والی کشمکش کو کنٹرول کرنے کے لیے اور دوسری طرف شامی سرزمین پر ایران کی درجنوں جگہوں پر اسرائیل کی طرف ہونے والے حملوں کے پیش نظر کل ایک مرحلہ میں داخل ہوا ہے اور یہ بھی کہا کہ 1973ء میں ہونے والی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے لے کر اب تک کی یہ سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے اور اسرائیل نے کہا کہ یہ حملے 20 میزائل کے جواب میں کئے گئے ہیں اور ان حملوں کے ذمہ دار ایران کی قدس جماعت ہے۔(۔۔۔)

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ "F-15” اور "F-16” ماڈل کے 28 جہازوں نے پر ایران کی ان درجنوں جگہوں پر حملہ کرنے میں شرکت کی ہے جن میں ایرانی انٹیلیجنس کی جگہیں، قدس فورس کی لوجسٹک کمان اور دمشق کے شمال میں ایرانی کیمپ کے ہیڈ کوارٹر بھی ہیں اور اسی طرح اس پلیٹ فارم کو بھی برباد کیا گیا ہے جس کے ذریعہ اسرائیل پر میزائل چھوڑا گیا تھا۔

امریکہ اور برطانیہ نے ایرانی گولہ باری کے بعد خود کا دفاع کرنے کے سلسلہ میں اسرائیل کے حق کی حمایت کی ہے۔ (۔۔۔)

جمعہ– 25 شعبان 1439 ہجری – 11 مئی 2018ء شمارہ نمبر:  (14309)