امريكہ

منبج کے معاہدہ میں امریکہ اور ترکی کے مابین اعتماد کا امتحان

"الشرق الاوسط” سے کرد رہنما کی گفتگو: ہم 30 مشیر کار کو واپس بلا لیں گے لندن: ابراہیم حمیدی ایک مغربی سفارت کار نے کل "الشرق الاوسط” کو بتایا ہے کہ شمالی شام کے شہر منبج کے سلسلہ میں امریکہ اور ترکی کے درمیان ہونے والا معاہدہ نیٹو کے دو رکن […]

منبج کے معاہدہ میں امریکہ اور ترکی کے مابین اعتماد کا امتحان
"الشرق الاوسط” سے کرد رہنما کی گفتگو: ہم 30 مشیر کار کو واپس بلا لیں گے

لندن: ابراہیم حمیدی

ایک مغربی سفارت کار نے کل "الشرق الاوسط” کو بتایا ہے کہ شمالی شام کے شہر منبج کے سلسلہ میں امریکہ اور ترکی کے درمیان ہونے والا معاہدہ نیٹو کے دو رکن ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کا امتحان ہو سکتا ہے۔

"الشرق الاوسط” کی معلومات کے مطابق اس بات کا علم ہوا ہے کہ منصوبہ بندی میں امریکہ اور ترکی کی طرف سے گشت، کرد حمایتی یونٹس کا مشرق فرات کی طرف نکلنا اور ایک شہری کونسل کی تشکیل شامل ہے لیکن صرف ایک اعلان کی وجہ سے اختلاف میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ انقرہ ایک مضبـوط منصوبہ کے مطابق 10 دنوں کے دوران منصوبہ پر عمل درآمد کرنے کا آغاز کرنا چاہتا ہے جبکہ واشنگٹن کی نگاہ میں یہ وقتی پروگرام صرف رہنمائی کے سلسلہ میں ہے اور ہر مرحلہ کا نفاذ ما قبل کی کامیابی پر منحصر ہے۔(۔۔۔)

اسی سلسلہ میں "الشرق الاوسط” سے ایک کرد رہنما نے کہا کہ ہمارے پاس یونٹس کے تقریبا 300 جنگجو تھے لیکن تعداد آہستہ آہستہ کم ہوگئی ہے اور صرف 30 مشیر باقی رہ گئے ہیں جو ضرورت ختم ہوتے ہی چلے جائیں گے۔(۔۔۔)

بدھ – 21 رمضان المبارک 1439 ہجری – 06 جون 2018ء شمارہ نمبر:  (14335)