انتخابات کے پیش نظر زمبابوے میں خونی کشیدگی
ہراری: "الشرق الاوسط” کل حکومت کرنے والی "افریقی نیشنل یونین پارٹی” کی طرف سے گزشتہ پیر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپنی کامیابی کے اعلان کے بعد زمبابوے کی دار الحکومت ہراری کی سڑکوں پر پرتشدد جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں۔ تشدد کے نتیجے […]

ہراری: "الشرق الاوسط”
کل حکومت کرنے والی "افریقی نیشنل یونین پارٹی” کی طرف سے گزشتہ پیر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپنی کامیابی کے اعلان کے بعد زمبابوے کی دار الحکومت ہراری کی سڑکوں پر پرتشدد جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں۔
تشدد کے نتیجے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز نے مخالفین کے ان حامیوں کے خلاف گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے جنہوں نے مظاہروں میں اس دلیل کی بنیاد پر حصہ لیا ہے کہ انتخابات میں فراڈ ہوا ہے اور آنکھوں دیکھی گواہوں نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے حامیوں اور پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہراری کی گلیوں میں مشین گن اور بندوقوں کی آوازیں گونجنے لگیں اور شہر کے اوپر فوج کے تابع ہیلی کاپٹر کو بھی دیکھا گیا ہے۔
فوجیوں نے بھیڑ میں گھس کر مظاہرین اور صحافیوں پر بندوق کے پیچھے کے جصہ سے حملہ کیا اور اس حملہ کی وجہ سے بی بی سی کے لئے کام کرنے والے ایک صحافی زخمی ہو گیا اور ڈیموکریٹک تبدیلی (ایم ڈی سی) تحریک نامی مخالف پارٹی کے حامیوں کو سڑکوں پر ٹائروں میں آگ لگاتے اور پولیس فورسز پر پتھر مارتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔(۔۔۔)
جمعرات – 20 ذی قعدہ 1439 ہجری – 02 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14492)