ادلب میں غیر مکلف جنگ کے لئے ترکی اور روس کے درمیان معاہدہ
ماسکو: رائد جبر لندن: "الشرق الاوسط” کل روس کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ سیرگی لاوروف شام کی صورتحال کے سلسلہ میں اپنے ترکی ہم منصب مولود جاویش اوگلو کے ساتھ گفت وشنید کرنے کے لئے انقرہ کا دورہ پیر کے دن کریں گے اور ایک […]

ماسکو: رائد جبر لندن:
"الشرق الاوسط”
کل روس کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ سیرگی لاوروف شام کی صورتحال کے سلسلہ میں اپنے ترکی ہم منصب مولود جاویش اوگلو کے ساتھ گفت وشنید کرنے کے لئے انقرہ کا دورہ پیر کے دن کریں گے اور ایک روسی ذریعہ نے "الشرق الاوسط” کو بتایا ہے کہ یہ دورہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ کیونکہ اس بات کا علم ہوا ہے کہ چند امور ہیں جن کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھائے بغیر ادلب پر قبضہ کرنے کے سلسلہ میں آسانی کے ساتھ معاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اس سے قبل میدانی طور پر ایسی کشمکش ہوئی ہے جس کی وجہ سے ادلب کی صورتحال کو حل کرنے کے سلسلہ میں ایک طرف روس اور ایران اور دوسری طرف ترکی کے درمیان ایک معاہدہ کرنے میں ناکامی حاصل ہوئی ہے اور ذریعہ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ادلب کے اندر فوجی کاروائی ایک ساتھ ہوگی اور اس سلسلہ میں پیچیدہ معاہدے بھی ہوں گے اور اس میں اشارہ ہے کہ شام کے جنوب میں قبضہ کرنے کے سلسلہ میں ایک اور تکرار سامنے آئے گا کیونکہ نصرہ فرنٹ کے کردار اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے والے اداروں کے سلسلہ میں جنگجؤوں کے درمیان وسیع پیمانہ پر اختلافات پائے جا رہے ہیں۔
شام کے اندر انسانی امور کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کے مشیر کار یان ایگلانڈ نے کل صراحت کے ساتھ بتایا کہ بین الاقوامی تنظیم احتمالی جنگ کی تیاری کر رہی ہے اور وہ ترکی سے اس بات کا مطالبہ کرے گی کہ وہ اپنے سرحد کو کھلا رکھے تاکہ شہریوں کو اگر بھاگنے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ بھاگ سکیں۔
اسی سلسلہ میں انتظامیہ کے ہیلی کاپٹر نے ادلب کے دیہاتوں پر چند منشورات پھیکے ہیں جن میں جنگجؤوں سے مصالحات میں ضم ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعہ – 28 ذی قعدہ 1439 ہجری – 10 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14500)