پہلا صفحہ

ادلب کے دیہی علاقوں کو ختم کرنے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے مصالحات کے نوجوانوں کی بھرتی

ماسکو: رائد جبر انقرہ : سعید عبد الرزاق شامی حکومت کی فورسز نے ادلب کے دیہی علاقوں پر غیر معمولی انداز میں حملہ کیا ہے اور اسی طرح اس نے ایسی کمک بھیجی ہے جس میں ملک کے جنوبی علاقہ کے نوجوان ہیں اور ان کا دمشق کے ساتھ معاہدہ […]

ادلب کے دیہی علاقوں کو ختم کرنے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے مصالحات کے نوجوانوں کی بھرتی

ماسکو: رائد جبر انقرہ : سعید عبد الرزاق

شامی حکومت کی فورسز نے ادلب کے دیہی علاقوں پر غیر معمولی انداز میں حملہ کیا ہے اور اسی طرح اس نے ایسی کمک بھیجی ہے جس میں ملک کے جنوبی علاقہ کے نوجوان ہیں اور ان کا دمشق کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور اس کا مقصد ملک کے شمال میں واقع لاذقیہ، حلب اور حماة کے درمیان واقع علاقوں کو تہس نہس کر دینا ہے۔

کل انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ نے بتایا ہے کہ قنیطرہ اور درعا میں سے ہر ایک کے اندر انتظامیہ کی طرف سے نوجوانوں کو فوج بھرتی کرنے کی کاروائی میں 3800 شخص شامل ہیں جبکہ حکومتی فورسز نے ان دونوں گورنریٹ میں مزید بھرتی کی کاروائی جان بوجھ کر کرے گی جن پر مصالحتی معاہدہ اور فوجی کاروائیوں کے ذریعہ قبضہ ہوا ہے۔

اسی سلسلہ میں آزادی کی قومی فرنٹ کے ترجمان کرنل ناجی ابو حذیفہ نے کہا ہے کہ فرنٹ نے لاذقیہ کے دیہی علاقہ، ادلب کے مغربی دیہی علاقہ، حلب کے جنوبی دیہی علاقہ اور حماة کے شمالی مغربی علاقہ کے اندر چار پؤائنٹ پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے والی حکومتی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک کاروائی کا کمرہ تیار کیا ہے۔

اس کے مقابلہ میں ادلب پر مشتمل آستانہ کاروائی کی حمایت کرنے والے تینوں ممالک نے ایک دوسرے کو مسلسل فون کیا اور روسی صدر ولادیمئر پوٹن اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے آخر میں ہونے والے واقعات کے سلسلہ میں گفت وشنید کی جبکہ اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے ایرانی صدارت کے دفتر کے ڈائریکٹر محمود واعظی سے شامی فائل کے سلسلہ میں گفتگو کی تھی۔

دوسری طرف وزیر خارجہ الچیکی یان ہامانچک نے کل دمشق کے اندر گفتگو کی ہے اور سالوں کے بعد شام کی دار الحکومت کی طرف ایک یورپی وزیر کی طرف سے اپنی نوعیت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

ہفتہ – 29 ذی قعدہ 1439 ہجری – 11 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14501)