ترکوں کی طرف سے اردوگان کو دھمکی اور ڈالر سے وابستگی
انقرہ – واشنگٹن: "الشرق الاوسط” ترکی کی سینٹرل بینک کے بیانات میں اس بات کی وضاحت ہوئی ہے کہ ترکی کے اندر مقامی سرمایہ کاروں کے ذخائر غیر ملکی کرنسی میں ایک ہفتہ کے اندر یعنی دس اگست تک 159.9 ارب ڈالر تک پہہنچ گئے ہیں جبکہ ایک ہفتہ قبل اس […]

انقرہ – واشنگٹن: "الشرق الاوسط”
ترکی کی سینٹرل بینک کے بیانات میں اس بات کی وضاحت ہوئی ہے کہ ترکی کے اندر مقامی سرمایہ کاروں کے ذخائر غیر ملکی کرنسی میں ایک ہفتہ کے اندر یعنی دس اگست تک 159.9 ارب ڈالر تک پہہنچ گئے ہیں جبکہ ایک ہفتہ قبل اس کا معیار 158.6 ارب ڈالر تھا اور یہ وضاحت اس بیان کے مخالف ہے جس میں صدر رجب طیب اردوگان نے اپنے شہریوں کو غیر ملکی کرنسی کو ترکی لیرہ میں تبدیل کرنے کی دعوت دی ہے اور اس فیصلہ کی وجہ سے ملک کے اندر ہونے والی معاشی کاروائیوں سے شہری غیر مطمئن ہو سکتے ہیں اور اپنے آپ کو ڈالر سے وابستہ کر سکتے ہیں کیونکہ ابھی ترکی کی معیشت کو بڑے بحران کا سامنا ہے۔
یہ چیلنج ترکی شہریوں کی طرف سے ان کے صدر کو اس وقت دیا گیا جب ترکی لیرہ کی قیمت ڈالر کے مقابلہ میں 5.8561 تک گر چکی ہے اور اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوٹشین نے انکشاف کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مزید پابندیوں کی تیاری کر رہی ہے اگر ترکی نے جاسوسی کے الزام میں گرفتار انڈرون برانسون کو رہا نہیں کیا تو۔
جمعہ – 06 ذی الحجہ 1439 ہجری – 17 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14507)