ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمنواؤں کے ساتھ امریکی ترتیب
واشنگٹن: ہبہ القدسی کل امریکی وزارت خارجہ نے جوہری معاہدہ سے نکلنے کے بعد تہران کے خلاف صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کو ترتیب دینے کے سلسلہ میں کام کرنے کی ایک گروپ تشکیل دینے اور امن واستقرار کو نشانہ بنانے والے اس کے رویہ کا مقابلہ کرنے […]

واشنگٹن: ہبہ القدسی
کل امریکی وزارت خارجہ نے جوہری معاہدہ سے نکلنے کے بعد تہران کے خلاف صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیوں کو ترتیب دینے کے سلسلہ میں کام کرنے کی ایک گروپ تشکیل دینے اور امن واستقرار کو نشانہ بنانے والے اس کے رویہ کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خارجہ مائک پومپیو نے سیاسی منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر برائن ہوک کو ایران کا خاص سفیر بنایا ہے اور انہیں اس بات کا بھی ذمہ دار بنایا کہ وہ کام کے گروپ کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں اور واشنگٹن کے ساتھ ان ہمنواؤں کے ساتھ کی جانے والی کوششوں کو ترتیب دیں جو ایران کی طرف سے دہشت گردی کی مدد کرنے، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور بین الاقوامی نیویگیشن کے امن وسلامتی کے سلسلہ میں ہونے والے خطرات سے بے چین ہیں۔
اسی سلسلہ میں ہوک نے کہا اب کوئی گفتگو نہیں ہو سکتی ہے الا یہ کہ ہم یہ دیکیھیں کہ ایران اپنے تصرفات کی تبدیلی میں سنجیدہ ہے۔
واشنگٹن کے اندر سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد ابن سلمان نے ٹویٹ کیا ہے کہ سعودی عرب کبھی بھی حوثیوں کو یہ موقعہ نہیں دے گا وہ دوسرا حزب اللہ بنے اور ایران اسی کی کوشش میں ہے اور انہوں چند ایسے دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لبنان کے حزب اللہ نے حوثیوں کی مدد جنگجؤوں، ہتھیاروں اور تجربات کے ذریعہ کیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے تابع میلیشیاء اور دیگر جماعتیں علاقہ کے اندر انارکی اور تبای وبربادی مچانے کے لئے کام کر رہی ہیں۔
جمعہ – 06 ذی الحجہ 1439 ہجری – 17 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14507)