پہلا صفحہ

آل الشیخ: وہابیت کا لفظ اعتدال کی صورت خراب کرنے کے لئے استعمال کیا گیا

مکہ مکرمہ: محمد العائض سعودی عرب کے اندر اسلامی امور اور دعوت وارشاد کے وزیر ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب کے قیام کے بعد سے اب تک یہاں کی فضاء میں […]

آل الشیخ: وہابیت کا لفظ اعتدال کی صورت خراب کرنے کے لئے استعمال کیا گیا

مکہ مکرمہ: محمد العائض

سعودی عرب کے اندر اسلامی امور اور دعوت وارشاد کے وزیر ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب کے قیام کے بعد سے اب تک یہاں کی فضاء میں معتدل فکر ہی رائج اور منتشر رہی ہے۔

وہابیت کے سلسلہ میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے آل الشیخ نے کہا کہ یہ ایک ایسا لفظ ہے جسے دین کے دشمنوں کی طرف سے جان بوجھ کر چسپاں کیا گیا ہے تاکہ وہ دعوت کے میدان میں موجود وسطیت واعتدال کی صورت کو خراب کر سکیں اور اس لفظ کی حقیقت اس شخص سے جاملتی ہے جو شمال افریقہ میں رہتا تھا اور اس کا نام عبد الوہاب ابن رستم تھا اور اس نے دین کے خلاف ایک مجرمانہ گروہ تیار کیا تھا اور سارے لوگوں کو تکلیف پہنچائی تھی لہذا دین کے دشمنوں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا تاکہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اس نام کو شیخ محمد ابن عبد الوہاب کی دعوت سے جور دیا جائے اور انہیں وسطیت واعتدال کے تعامل کرنے سے روک دیا جائے۔

آل الشیخ نے معلم کی حیثیئت سے سعودی عرب آنے والے افراد پر کفر وفسق اور گمراہی، عقیدہ اور حکمرانوں میں شک کرنے کی فکر کی نشر واشاعت کی ہے اور کل سے شروع ہونے والی حج کی تیاریوں کے سلسلہ میں آل الشیخ نے پرزور انداز میں کہا کہ سعودی عرب دنیا کے تمام علاقوں سے تمام حاجیوں کا استقبال کرے گا اور انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ ان کی وزارت نے حج کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہے۔

ہفتہ – 07 ذی الحجہ 1439 ہجری – 18 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14508)