غزہ کی جنگ بندی قریب اور عباس کی طرف سے دھمکی
رام اللہ: کفاح زبون مصر غزہ میں ایک ایسا نیا معاہدہ قائم کرنے کے قریب ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینی جماعت کے درمیان سنہ 2014ء میں ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کا ذکر ہے لیکن اس نئے معاہدہ کے چند مراحل ہوں گے اور اس میں قیدیوں کا تبادلہ […]

رام اللہ: کفاح زبون
مصر غزہ میں ایک ایسا نیا معاہدہ قائم کرنے کے قریب ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینی جماعت کے درمیان سنہ 2014ء میں ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کا ذکر ہے لیکن اس نئے معاہدہ کے چند مراحل ہوں گے اور اس میں قیدیوں کا تبادلہ بھی ہوگا اور غزہ کے اندر بڑے منصوبے بھی قائم کئے جائیں گے۔
فلسطینی ذرائع نے تاکید کی ہے کہ حماس اور اسرائیل دونوں کی طرف سے بنیادی معاہدہ ہے لیکن بنیادی پریشانی یہ ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس معاہدہ کی شکل اور اس کے مضمون کو مسترد کر دیا ہے لیکن مصر نے انہیں اس بات کا اطمینان بھی دلایا ہے کہ کوئی بھی فائل تقسیم ختم کئے اور غزہ کو حکومت کے تحت لائے بغیر مکمل نہیں ہوگی اور قاہرہ میں ہونے والے ابھی تک کے کسی مذاکرات میں وہ تحریک فتح شامل نہیں ہوئی ہے جس کے لیڈر عباس ہیں۔
تحریک فتح کے ذرائع نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کہا کہ کہ عباس ہرگز کسی ایسے معاہدہ کو قبول نہیں کریں گے جس کی ذمہ دار فلسطینی حکومت نہ ہو اور ان ذرائع نے بھی واضح کیا کہ اگر حماس نے تن تنہا معاہدہ کر لیا تو صدر ان کے خلاف سخت کاروائیاں کریں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مکمل طور پر غزہ کی مدد اور اس کی فنڈنگ کو روک دیا جائے۔
اسرائیل میں ذمہ داروں نے شرط لگایا ہے کہ سنہ 2014ء میں غزہ کی جنگ میں قتل ہونے والے دو فوجیوں کی نعش کو واپس کرنا ہے اور طویل معاہدہ سے قبل شہریوں کو آزاد کرنا ہے۔
ہفتہ – 07 ذی الحجہ 1439 ہجری – 18 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14508)