ایران

ایران کی طرف سے جنگ کے بدلے کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے عراق میں ناراضگی

بغداد: "الشرق الاوسط” ایران کی طرف سے سنہ 1980ء سے لے کر سنہ 1988ء تک ہونے والی آٹھ سالہ جنگ کے بدلے کے سلسلہ میں ہونے والے از سر نو مطالبہ کی وجہ سے عراق کے اندر ناراضگی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی […]

ایران کی طرف سے جنگ کے بدلے کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے عراق میں ناراضگی

بغداد: "الشرق الاوسط”

ایران کی طرف سے سنہ 1980ء سے لے کر سنہ 1988ء تک ہونے والی آٹھ سالہ جنگ کے بدلے کے سلسلہ میں ہونے والے از سر نو مطالبہ کی وجہ سے عراق کے اندر ناراضگی کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی اور قومی امن وسلامتی کمیٹی کے چیئرمین حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے کل اسنا ایجنسی کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں پرزور انداز میں کہا کہ یہ بدلے کھلی فائل کی طرح ہے اور بغداد کو اس کی ادائگی کرنی چاہئے۔

عراقی پارلیمنٹ کے رکن فائز احمد الجبوری نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیس سال کے بعد سابقہ انتظامیہ کے زوال اور موجودہ ایرانی انتظامیہ کے سایہ میں یہ غیر معقول بات ہے کہ بدلے کی فائل کو آج کھول دیا جائے اور اسی سلسلہ میں عراقی حکومت کے سابق ترجمان علی الدباغ "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل عراق کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ سابقہ انتظامیہ کے جرائم کو مسلسل برداشت کریں اور انہوں نے مزید کہا کہ اہل ایران کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اہل عراق سے مطالبہ کریں۔

دوسری طرف گذشتہ بارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں بڑی جماعت تشکیل کرنے پر قادر نہیں ہیں اور پارلیمنٹ کے سابق رکن اور کفی نامی تحریک کے صدر رحیم الدراجی نے کہا کہ شیعہ اور شیعہ کے درمیان ہونے والی تقسیم کی وجہ سے نہ کہ بڑی جماعت کی وجہ سے یہ معاملہ بہت سنگین ہو گیا ہے اور اسے کیسے تشکیل دیا جائے گا اور کس پروگرام کے تحت بلکہ اس بات کے سلسلہ میں بھی کہ کون وزیر اعظم ہوگا ان تمام وجوہات کی بنیاد پر معاملہ بہت سخت ہو چکا ہے۔

اتوار – 08 ذی الحجہ 1439 ہجری – 19 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14509)