اردوگان کے سامنے لیرا کو بچانے کے لئے سخت اختیارات اور ٹرمپ کی پابندیوں کو چیلنج
انقرہ: "الشرق الاوسط” کل ترک صدر رجب طیب اردوگان نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ ترکی اس امریکہ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا جس کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پابندیاں عائد کی ہے اور ان کی انتظامیہ نے مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور […]

انقرہ: "الشرق الاوسط”
کل ترک صدر رجب طیب اردوگان نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ ترکی اس امریکہ کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا جس کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پابندیاں عائد کی ہے اور ان کی انتظامیہ نے مزید پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے اور اسی وجہ سے حالیہ دنوں میں ترکی لیرا میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔
فرانسیسی اخبار ایجنسی نے انقرہ کے اندر اپنی پارٹی "عدالت وانصاف” کے سالانہ کانفرنس کے دوران کی گئی اردوگان کی بات کو نقل کیا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے جو ایک طرف تو اپنے آپ کو اس طور پر پیش کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اسٹراٹیجک ساتھی ہیں اور دوسری طرف اسی لمحہ ہمیں اسٹراٹیجک نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور پارٹی کے صدر کے لئے اپنے انتخاب کی تجدید کرنے والے اس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ مقدار زر اور انٹریسٹ کی شرحوں ، تبادلہ کی قیمتوں، پابندیوں اور معاش کے ذریعے ہمیں دھمکی دے سکتے ہیں، ہم نے تمہاری دغابازی کا انکشاف کر لیا ہے اور ہم تمہیں چیلنج کرتےہیں۔
نگہداشت رکھنے والوں نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی کشیدگی کے علاوہ ترکی لیرہ میں کمی ترکی صدر کی معیشت پر بڑھتی ہوئی گرفت کی وجہ سے آئی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں اس بات کو مسترد کر دیا کہ سینٹرل بینک فوائد کی قیمتوں میں اضافہ کرے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اردوگان کے سامنے اس لیرہ کو بچانے کے لئے سخت اختیارات ہیں جس کی کمی سے یورپ کے رہنماء پریشان ہیں لیکن اکثر وبیشتر جن حل کی طرف انہوں نے اشارہ کیا ہے وہ اردوگان کی اس پالیسی کے خلاف ہے جس پر انہوں نے ابھی تک اعتماد کیا ہے۔
اتوار – 08 ذی الحجہ 1439 ہجری – 19 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14509)