امريكہ

بڑی جماعت تیار کرنے کے لئے میک گورک اور سلیمانی بغداد میں

بغداد: حمزہ مصطفی گذشتہ بارہ مئی کو ہونے والے انتخاب کے نتائج کے سلسلہ میں کل عراق کی وفاقی سپریم کورٹ کی طرف سے ملنے والی منظوری کے بعد اگلے وزیر اعظم کی امیدوار بننے والی بڑی جماعت کی تشکیل کرنے کے سلسلہ میں امریکی او ایرانی کشمکش اپنے آخری […]

بڑی جماعت تیار کرنے کے لئے میک گورک اور سلیمانی بغداد میں

بغداد: حمزہ مصطفی

گذشتہ بارہ مئی کو ہونے والے انتخاب کے نتائج کے سلسلہ میں کل عراق کی وفاقی سپریم کورٹ کی طرف سے ملنے والی منظوری کے بعد اگلے وزیر اعظم کی امیدوار بننے والی بڑی جماعت کی تشکیل کرنے کے سلسلہ میں امریکی او ایرانی کشمکش اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔

"الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرنے والے عراق کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ بڑی جماعت کامیاب ہونے والی اس شیعی جماعتوں کے ہاتھ سے نکل گیا ہے جن کی نمائندگی دو محور پر ہے اور ان میں ایک مقتدی الصدر کی طرف سے مدد کردہ سائرون نامی جماعت اور وزیر اعظم حیدر العبادی کی سرپرستی میں نصر نامی جماعت ہے اور دوسرے محور کی نمائندگی ہادی العامری کی سرپرستی میں الفتح نامی جماعت اور نور المالکی کی سرپرستی میں دولة القانون نامی جماعت کر رہی ہے اور ذرائع نے مزید کہا کہ اب معاملہ امریکی سفیر بریک میک گورک اور ایرانی سفیر قاسم سلیمانی کے ہاتھ میں ہے اور دونوں سفیر عراق میں چند دنوں سے موجود ہیں۔

ذرائع نے میک گورک کی نقل وحرکت کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ واشنگٹن نے عبادی کی مدد کرنے کے سلسلہ میں اپنے اختیار کو متعین کر دیا ہے اور ذرائع نے مزید کہا کہ مقتدی الصدر کے بغداد پہنچنے کی وجہ سے دوسری جماعت میں ان کے مخالفین پریشان ہیں خاص طور پر مالکی جو یقینی طور پر صدر اور عبادی کے بغیر بڑی جماعت بنانا چاہتے ہیں جبکہ عامری وزیر اعظم کے امیدوار ہونے کے باوجود سائرون کو دور کرنا نہیں چاہتے ہیں تاکہ خود شیعوں کے درمیان کشمکش پیدا نہ ہو سکے۔

پیر – 09 ذی الحجہ 1439 ہجری – 20 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14510)