ادلب کے منصوبہ اور دستور کے سلسلہ میں ماسکو اور انقرہ کی باہمی مفاہمت
ماسکو: رائد جبر دستور کمیشن کی تشکیل سازی اور شام کے آئیندہ مرحلہ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی خصوصیات کی صورتحال کے سلسلہ میں کل فوجی اور سیاسی سطحوں پر مشتمل ترکی اور روس کے درمیان مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ […]

ماسکو: رائد جبر
دستور کمیشن کی تشکیل سازی اور شام کے آئیندہ مرحلہ کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی خصوصیات کی صورتحال کے سلسلہ میں کل فوجی اور سیاسی سطحوں پر مشتمل ترکی اور روس کے درمیان مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
آئیندہ مہینہ کے شروع میں تہران میں ایران، ترکی اور روس کے درمیان ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اینٹلی جنس کے اہلکاروں نے ادلب کے منصوبہ کا پختہ عزم کر لیا ہے۔
کرملین میں صدر ولادیمیر پوٹن کے طرف سے دونوں وفد کے اراکین کا ہونے والے استقبال سے قبل روسی وزیر خارجہ سیرگی لاورو نے مذاکرات کے بعد اپنے ترک ہم منصب مولود جاویش اوگلو کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرکے اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
لاورو نے ان چند فائلوں کے سلسلہ میں اختلافات کو ختم کرنے کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے جن میں شام کی دستور کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں ہونے والے نقطہائے نظر سے متعلق حالیہ اختلاف بھی شامل ہے اور انہوں نے کہا کہ فریقین نے آئندہ ماہ کی 11 اور 12 تاریخ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی سفیر اسٹیفن ڈی میسٹورا کی طرف سے منعقدہ اجلاس سے قبل اس سلسلہ میں ایک معاہدہ کیا تھا۔
اسی وجہ سے شامی انتظامیہ کی فورسز ادلب کی طرف مسلسل کمک بھیج رہی ہے کیونکہ تنف میں بین الاقوامی اتحاد کے فوجی اڈہ سے 50 کیلو میٹر کی دوری پر ملک کے جنوب میں واقع سویداء کے دیہی علاقوں سے لگے انتظامی سرحد پر واقع دمشق کے دیہی علاقوں کے گاؤں میں تنظیم داعش کے خلاف شامی انتظامیہ کی قیادت میں مسلسل فوجی کاروائیاں ہو رہی ہیں۔
ہفتہ – 13 ذی الحجہ 1439 ہجری – 25 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14515)