سیمنز کمپنی کی واپسی اور لاہائی کے سامنے ایران کی شکایت
لاہائی – لندن: "الشرق الاوسط” بین الاقوامی انصاف عدالت پیر کے دن ایران کی طرف سے دوبارہ امریکی پابندیاں نہ لگانے کے مقصد سے پیش کردہ شکایت کے سلسلہ میں غور وفکر کرے گی تاکہ تہران کو جوہری ارادوں کے سلسلہ میں کئے جانے والے مقابلہ کو ایک عدالتی رخ مل […]

لاہائی – لندن: "الشرق الاوسط”
بین الاقوامی انصاف عدالت پیر کے دن ایران کی طرف سے دوبارہ امریکی پابندیاں نہ لگانے کے مقصد سے پیش کردہ شکایت کے سلسلہ میں غور وفکر کرے گی تاکہ تہران کو جوہری ارادوں کے سلسلہ میں کئے جانے والے مقابلہ کو ایک عدالتی رخ مل جائے۔
ایران نے تہران پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے دوبارہ لگائی جانے والی پابندیوں کے بعد جولائی کے ماہ میں لاہائی میں واقع اقوام متحدہ کے بنیادی عدالتی تنظیم بین الاقوامی انصاف عدالت کے سامنے ریاستہائے متحدہ کی شکایت کی تھی اور فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق اس بات کا علم ہوا ہے کہ اس معاملہ میں عدالت کی طرف سے وقتی فیصلہ آنے میں دو ماہ لگ جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخری فیصلہ آنے میں سالوں بیت جائیں۔
اسی سلسلہ میں کل انجینیئرنگ کی صنعتوں میں جرمن کی غیر معمولی سیمنز نامی کمپنی نے ایران کے اندر اپنی سرگرمیوں سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے اور جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق اس نے کہا کہ وہ دوسرے درجہ کی امریکی پابندیوں کے ساتھ ساتھ تمام قوانین اور ایکسپورٹ کے تمام ضوابط کا مکمل طور پر پابندی کرے گی اور اس ان کا اہتمام بھی کرے گی اور جرمن میں امریکی سفیر ریٹچارڈ گرینل نے پرسو شام اپنے ٹیوٹر پر لکھا کہ سیمنز نے مجھے بتایا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے نکل جائے گی۔
کمپنی کے مالی ڈائریکٹر رالو ٹوماس نے گذشتہ مئی کے ماہ میں اعلان کیا تھا کہ سیمنز ایران میں شروع کردہ اپنے کام کو جب تک ممکن ہوگا قانونی دائرہ میں ختم کرے گا۔
ایک وقت میں تجزیہ نگاروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو عالمی کمپنیوں کے مسلسل نکلنے کی وجہ سے اقتصادی گراوٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔
ہفتہ – 13 ذی الحجہ 1439 ہجری – 25 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14515)