ایران کی طرف سے امریکہ کے ساتھ بیلسٹک مقابلہ کے لئے علاقائی تیاری
لندن: "الشرق الاوسط” ایرانی، مغربی اور عراقی ذرائع نے کل انکشاف کیا ہے کہ جس ایران پر پہلے مغربی ممالک کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ لبنان کے حزب اللہ، یمن کی حوثی جماعت اور شام میں اس کے میلیشیاؤں کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنا ہے وہ ریاستہائے […]

لندن: "الشرق الاوسط”
ایرانی، مغربی اور عراقی ذرائع نے کل انکشاف کیا ہے کہ جس ایران پر پہلے مغربی ممالک کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ لبنان کے حزب اللہ، یمن کی حوثی جماعت اور شام میں اس کے میلیشیاؤں کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنا ہے وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ میزائل منتشر کرنے کے ذریعہ بیلسٹک مقابلہ کے لئے علاقائی تیاری کر رہا ہے اور ان میزائلوں میں دور تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں اور وہ بھی عراق کے ان علاقوں میں جن میں اس کے ہمنوا میلیشیاؤں کا قبضہ ہے۔
روئٹرز نامی ایجنسی نے عراقی انٹیلیجنس بیورو اور ایرانی ذرائع سے نقل کیا ہے کہ عراق میں میزائل بنانے کے لئے میلیشیاؤں کو استعمال کرنے کے سلسلہ میں 18 ماہ قبل فیصلہ کیا گیا تھا لیکن یہ سرگرمیاں گذشتہ چند مہینوں کے درمیان زیادہ ہو گئی ہیں کیونکہ اب تو میزائل مارنے کے اسٹینڈ بھی وہاں پہنچ چکے ہیں اور عراقی اور مغربی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عراق کے اندر میزائلوں کو ترقی دینے کے سلسلہ میں جو کارخانے استعمال ہو رہے ہیں وہ بغداد، زعفرانیہ اور بابل گورنریٹ کے شمال میں واقع جرف الصخر علاقہ میں ہیں۔
اسی سلسلہ میں باخبر عراقی ذرائع نے برطانیہ کی دار الحکومت لندن کے "الشرق الاوسط” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران نے سنہ 2017ء میں دور تک مار کرنے والے میزائل کو بنانے کے مقصد سے دیگر کارخانوں کو عراق میں داخل کرایا ہے اور ممکن ہے کہ علاقہ کے اندر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ہمنوا اس بات کو جان سکیں اور اس کے ہمنواؤں میں اسرائیل بھی داخل ہے۔
ذرائع نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اسرایلی جہاز گذشتہ دو سالوں تل ان جگہوں کی تصویر لینے کے لئے عراق کے اندر تک منڈلاتا رہا ہے جہاں میزائل بنائے جا رہے تھے یا انہیں ترقی دی جا رہی تھی اور ممکن ہے کہ آگے چل کر ان جگہوں کو نشانہ بنانے کا بھی ارادہ ہو۔
ہفتہ – 21 ذی الحجہ 1439 ہجری – 01 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14522)