طرابلس کے خون کی وجہ سے السراج کی حکومت کے خلاف انکار کے دائرہ میں وسعت
قاہرہ: خالد محمود اور جمال جوہر لیبیا کی دار الحکومت طرابلس میں ہونے والی جنگ بندی اور نئی کشیدگی کے سلسلہ میں بڑھنے والے خدشات کے ساتھ فائز السراج کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت کے صخیرات معاہدہ کی تائید کرنے والی پارلیمانی جماعت کے انکار کا دائرہ وسیع ہو […]

قاہرہ: خالد محمود اور جمال جوہر
لیبیا کی دار الحکومت طرابلس میں ہونے والی جنگ بندی اور نئی کشیدگی کے سلسلہ میں بڑھنے والے خدشات کے ساتھ فائز السراج کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت کے صخیرات معاہدہ کی تائید کرنے والی پارلیمانی جماعت کے انکار کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے اور اس جماعت کا مطالبہ ہے کہ السراج علیحدگی اختیار کریں اور ایک صدر اور دو ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک چھوٹی سی کمیٹی تشکیل کریں اور ملک کے اندر ہونے والے خونریز واقعات میں ملوث افراد کو عدالت کے حوالہ کریں۔
یہ مطالبہ پانچ دن قبل طرابلس میں ہونے والی اس کشیدگی کی وجہ سے بہنے والے خوں کے پس منظر میں ہوا ہے جس میں تیس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صخیرات معاہدہ کے تقریبا اسی حامی ارکان پارلیمنٹ نے ایک بیان میں السراج سے امید کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس نے دار الحکومت کے اندر مسلح میلیشیاؤں کو ازاد کر رکھا تھا اور ان پر ملک کی آمدنی کو خرچ کیا تھا اور بیان میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے رشتہ داروں اور مشیر کار کو فیصلوں میں مداخلت کرنے کی آزادی دے رکھی تھی۔
ہفتہ – 21 ذی الحجہ 1439 ہجری – 01 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14522)