حوثی مشقوں کی وجہ سے جنیوا کے مذاکرات میں تاخیر
ریاض: عبد الہادی حبتور لندن – جنیوا: "الشرق الاوسط” کل حوثیوں کی طرف سے کی جانے والی سیاسی مشق کی وجہ سے وہ یمنی مذاکرات میں تاخیر ہو گئی جو آج جنیوا میں منعقد ہونے والا تھا۔ سابقہ مذاکرات میں یہی ہوبہو صورتحال کے واقع ہونے […]

ریاض: عبد الہادی حبتور لندن – جنیوا: "الشرق الاوسط”
کل حوثیوں کی طرف سے کی جانے والی سیاسی مشق کی وجہ سے وہ یمنی مذاکرات میں تاخیر ہو گئی جو آج جنیوا میں منعقد ہونے والا تھا۔
سابقہ مذاکرات میں یہی ہوبہو صورتحال کے واقع ہونے کی وجہ سے باغی جماعتوں نے نئے شروط رکھیں ہیں جن کی وجہ سے اس کے وفد کے جنیوا پہنچنے میں دشواریاں آگئی ہیں اور رائے عام کو اچنبھا اس وقت ہوا جب جنیوا بھیجے جانے والے وفد کے ساتھ زخمیوں کو منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی۔
اسی سلسلہ میں اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک بیلسٹک میزائیل کو نجران کی علاقہ میں برباد کر دیا ہے جس کے ہلاک ہونے کے بعد گرنے کی وجہ سے 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی نے حوثیوں سے نقل کیا ہے کہ جہاز نہ ہونے کی وجہ مذاکرات میں شرکت کرنے کے لئے صنعاء چھوڑ کر جانا مشکل ہے اور حوثیوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ وفد، زخمی افراد اور پھنسے لوگوں کو منتقل کرنے کے لئے ایک عمانی جہاز فراہم کرنے کے سلسلہ میں اتحاد کے ممالک سے ایک لائسنس نہیں نکال سکتا ہے اور ان باغیوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ زخمی اور پھنسے ہوئے لوگ کون ہیں جن کو وہ منتقل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی تعداد کیا ہے اور کس ملک کی طرف وہ ان کو منتقل کرنا چاہتے ہیں ان سب کی کسی تفصیل کی وضاحت نہیں کی ہے اور اس کے جواب میں یمن کے ذرائع ابلاغ نے یمن سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے ایک بیان نشر کیا ہے جس میں ایک خاص جہاز کے ذریعہ حوثی میلیشیاؤں کے وفد کو جنیوا منتقل کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور حقیقت میں یہ کام کل ہی ہو جانا چاہئے تھا۔
جنیوا میں ذرائع نے کہا کہ یمن کی طرف بھیجے گئے اقوام متحدہ کے سفیر مارٹن گریفتھ نے مسئلہ پر غور وفکر کرنے کے لئے قانونی حکومت کے وفد سے ملاقات کی ہے اور وفد نے انہیں اطلاع دی ہے کہ دوسرے فریق کے پہنچے بغیر مذاکرات کا شروع ہونا نا ممکن ہے۔
جمعرات – 26 ذی الحجہ 1439 ہجری – 06 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14527)