ٹرمپ کی طرف سے ادلب میں قتل عام سے آگاہ
واشنگٹن: ہبہ القدسی ماسکو : رائد جبر انقرہ : سعید عبد الرازق کل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ادلب میں قتل عام سے آگاہ کیا ہے اور وائٹ ہاؤس میں کویت کے امیر الشیخ صباح الاحمد کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے دوران کہا کہ دنیا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ […]

واشنگٹن: ہبہ القدسی ماسکو : رائد جبر انقرہ : سعید عبد الرازق
کل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ادلب میں قتل عام سے آگاہ کیا ہے اور وائٹ ہاؤس میں کویت کے امیر الشیخ صباح الاحمد کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے دوران کہا کہ دنیا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ دونوں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور میں بھی اس معاملہ کو قریب سے دیکھ رہا ہوں۔
ایک طرف ادلب میں ہونے والی فوجی کاروائی کو روکنے کے لئے بین الاقوامی آوازیں بلند ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ماسکو نے فوجی حل کے ساتھ جڑے رہنے کے سلسلہ میں اظہار کیا ہے اور روس کے نائب وزیر خارجہ سیرگی ریابکو نے کہا کہ ادلب کی پریشانی کو حل کئے بغیر شام کے اندر مسئلہ کو حل کرنا مشکل ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ جنگ کا فیصلہ ماسکو میں لیا گیا ہے اور اب اس کے وقت کا انتظار ہے اور ادلب میں قتل عام ہونے کے سلسلہ میں مغربی ممالک کی طرف سے بھی وارننگ مل رہے ہیں اور ریابکو نے کہا کہ ہمارے مغربی شرکاء مکمل طور پر جانتے ہیں کہ ان علاقوں کو دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ سے آزاد کرائے بغیر ایسے ہی چھوڑ دینا ناممکن ہے اور وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مسئلہ کو حل کئے بغیر شام کی صورتحال کو اس کی طبیعی صورتحال کی طرف دوبارہ واپس لانا مستحیل ہے اور اسی سلسلہ میں ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے کل اپنے قرگیزستان کے سفر سے واپسی کے وقت صحافیوں سے کہا کہ ادلب پر میزائل گرنے کی وجہ سے بہت زبردست قتل عام ہوگا۔
اسی اثناء امریکی وزیر دفاع جیمس ماٹیس نے کل نئی دلی کے دورہ پر جاتے ہوئے اعلان کیا کہ پنٹاگون کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس کی وجہ سے ادلب کے اندر مخالف جماعتوں کے خلاف کیمیکل ہتھیار استعمال کرنا جائز ہو جبکہ روس نے اس کے برخلاف اعلان کیا ہے اور ماٹیس نے کہا کہ ہمیں کوئی بھی اشارہ نہیں ملا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ مخالف جماعتوں کے پاس یہ طاقت موجود ہے۔
جمعرات – 26 ذی الحجہ 1439 ہجری – 06 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14527)