ابن دغر کی "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو: گریفیتھ کی بعض راۓ درست اور بعض غیر درست
لندن: بدر القحطانی – ریاض: عبد الہادی حبتور یمنی وزیر اعظم احمد عبید بن دغر نے کہا ہے کہ یمن کے لیۓ بھیجے گئے بین الاقوامی سفیر مارٹن گریفتھ نے یمنی بحران کو حل کرنے کے سلسلہ میں کچھ افکار پیش کیے ہیں جن میں سے ان کے بعض […]

لندن: بدر القحطانی – ریاض: عبد الہادی حبتور
یمنی وزیر اعظم احمد عبید بن دغر نے کہا ہے کہ یمن کے لیۓ بھیجے گئے بین الاقوامی سفیر مارٹن گریفتھ نے یمنی بحران کو حل کرنے کے سلسلہ میں کچھ افکار پیش کیے ہیں جن میں سے ان کے بعض افکار تو درست ہیں لیکن بعض میں ان سے غلطی ہوئی ہے اور انہوں نے بحران کے حل کی تلاش کے سلسلہ میں گریفیتھ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی ہے اور اشارہ کیا ہے کہ یمن میں سلامتی کی کارروائی بہت پیچیدہ ہے اور وہاں تک رسائی بڑے رہنماؤں کی نمائندگی کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے اور اور ان کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے۔
"الشرق الاوسط” کے ساتھ اپنی ہونے والی گفتگو کے دوران انہوں نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ گریفیتھ حدیدہ شہر میں جزئی حل چاہتے تھے لیکن ہم نے ان کو بتایا ہے کہ اگر جزئی حل منصفانہ، ہمہ گیر اور دائمی حل ثابت نہیں ہوا تو اسے کبھی بھی کامیابی نہیں حاصل ہوگی اور انہوں نے مزيد کہا ہے کہ بین الاقوامی سفیر جنگ بندی چاہتے تھے لیکن ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہم اس کو اس وقت تک قبول نہیں کر سکتے جب تک کہ حوثی سیاسی حل سے پہلے سکیورٹی اور فوجی کارروائیوں کو قبول نہ کرلیں اور ہم نے ان سے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں مثال کے طور پر اعتماد کی تعمیر کی کارروائیوں کی ضرورت اس طور پر ہے کہ تمام قیدیوں کو آزاد کردیا جاۓ لیکن حوثیوں نے اس کو نامنظور کردیا۔
ابن دغر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ قانونی حکومت نصف ملین افراد کی تنخواہ دیتی ہے جن میں ایک لاکھ شہری اور چار سو ہزار فوجی ہیں اور ابن دغر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آزاد علاقوں میں حکومت کو سب سے بڑے جس چیلنج کا سامنا ہے وہ امن وسیکیورٹی ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کبھی بھی کمال کا دعوہ نہیں کیا ہے اور یہ بھی نہیں کہا کہ ہمارے کام غلطی سے خالی ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ بعض تنقیدیں سیاسی سازش اور ڈیموکریٹک زندگی کے ساتھ لگی پارٹی کی کشمکش کا حصہ ہے۔
اس سلسلہ میں یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ پرسو شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنے کل شام تک حوثیوں کا وفد جنیوا نہیں پہنچا تھا کیونکہ یہ لوگ مسلسل ہٹ دھرمی برت رہے ہیں اور ایسی شرطیں لگا رہے ہیں جن کا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسے کہ زخمیوں کو منتقل کرنا اور یہ دعوی کرنا کہ ان کے جہاز کو اڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور حکومت نے اس کی تردید بھی کی ہے اور حکومت کے وفد نے کل اقوام متحدہ کے سفیر کو اس بات کی اطلاع دے دی ہے کہ مذاکرات کو ناکام بنانے کے ذمہ دار ان باغیوں کا وفد ہے جنہوں نے بیہودہ دلائل کی بنیاد پر حاضر ہونے سے انکار کر دیا۔
جمعہ – 27 ذی الحجہ 1439 ہجری – 07 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14528)