بصرہ کی کشیدگی کی وجہ سے حکومت کی صورتحال میں مزید ابتری
بغداد: حمزہ مصطفی بصرہ کے اندر حکمرانوں کی طرف سے کی جانے والے کرفیو کے اعلان اور سخت سکیورٹی کارروائیاں اس جنوبی شہر میں از سرنو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکیں جو بنیادی طور پر گرتی ہوئی حکومت کی کوششوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ […]

بغداد: حمزہ مصطفی
بصرہ کے اندر حکمرانوں کی طرف سے کی جانے والے کرفیو کے اعلان اور سخت سکیورٹی کارروائیاں اس جنوبی شہر میں از سرنو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکیں جو بنیادی طور پر گرتی ہوئی حکومت کی کوششوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔
سینئر ذرائع نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا ہے کہ نئے احتجاجی مظاہروں نے بے مثال اور سخت سکیورٹی کارروائیوں کے درمیان بصرہ کے علاقائی حکومتی عمارتوں کے ارد گرد کا رخ کر لیا ہے اور سکیورٹی فورسز نے کل کی طرح ہونے والی پیش قدمیوں کے اندیشہ سے ان عمارتوں کے ارد گرد بہت سی لائنیں بنا رکھی ہیں اور ان کاروائیوں کی وجہ سے درجنوں زخمی اور ہلاک ہو چکے ہیں اور پریس ذرائع نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کا بھی استعمال کیا ہے۔
خبریں ملی رہی ہیں کہ بعض مظاہرین نے بصرہ کے الزبیر نامی قائمقامیہ کے سامنے آگ جلائی ہے اور اسی طرح ہارثہ کے علاقے میں بصرہ کبیر کے پانی منصوبے کے سامنے بھی مظاہرے ہوۓ ہیں۔
مظاہرین نے بصرہ کاروائیوں کے رہنماء جمیل الشمری پر چند الزامات لگائے ہیں اور اسی طرح ان لوگوں نے مظاہرین کو قتل کرنے اور سختی برتنے کے الزام میں ان کے خلاف چار شیٹ داخل کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن شمری نے ان سب الزامات کے جواب میں کل ایک پریس کانفرنس منعقد کیا ہے اور اس میں نام لئے بغیر چند جماعتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بصرہ کے اندر شہریوں کو قتل کرنے اور فتنہ برپا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔(۔۔۔)
جمعرات – 26 ذی الحجہ 1439 ہجری – 06 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14527)