ماں کی وراثتی چربی مفید اور والد کی چربی خطرناک ہوتی ہے
لندن: "الشرق الاوسط” یورپ کے محققین اور ماہرین نے بتایا ہے کہ ان کو سیل سے متعلق ایک دلیل ملی ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اولاد اپنی ماؤوں سے اچھی چربی حاصل کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے والدوں سے خطرناک چربی حاصل کرتے ہیں۔ […]

لندن: "الشرق الاوسط”
یورپ کے محققین اور ماہرین نے بتایا ہے کہ ان کو سیل سے متعلق ایک دلیل ملی ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اولاد اپنی ماؤوں سے اچھی چربی حاصل کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے والدوں سے خطرناک چربی حاصل کرتے ہیں۔
جنوبی ڈنمارک یونیورسیٹی، جرمن میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ اور میڈیال نامی آسٹیرین یونیورسیٹی کے اہل علم نے کہا کہ انہوں نے موٹاپہ کے سلسلہ میں ایک دلچسپ تحقیق کی ہے اور ان کو اٹش 19 نامی ایک سیل کے سلسلہ میں نیا کام مل گیا ہے اور اس سیل میں وہ صفات ہیں جو موٹاپہ اور جسمانی زیادتی سے بچا سکتے ہیں اور ان صفات کی وجہ سے دل کی بیماریوں اور شوگر کی بیماری کی خطرناکیوں کو بہت زیادہ کم کیا جا سکتا ہے۔
اس سیل کا تعلق ایک فیصد انسانی سیلوں سے ہے جبکہ ننانوے فیصد اس کا تعلق دوسرے ان سیلوں سے ہے جو ایک بچہ کے اندر اپنی ماں یا اپنے والد سے منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
ان کی اس گراں قدر تحقیق کے نتیجہ میں اہل علم نے یہ بھی انکتشاف کیا ہے کہ خاص طور پر باب کے ذریعہ منتقل ہونے والے سیل کی وجہ سے ان کے بچوں کی سفید چربی میں ٹشو کا ظہور ہوتا ہے اور یہ وہ چربی ہے جو معدہ کے ارد گرد، دونوں ران اور پیچھے کے حصہ میں جمع ہوتی رہتی ہے اور ممکنہ طور پر یہ چربی میٹابولک سنڈروم کے پیدا ہونے میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہے اور اسی طرح یہ بات بھی ظاہر ہوی ہے کہ خاص طور پر جو سیل بچے اپنی ماؤوں سے پاتے ہیں ان میں چربی کی ایسی ٹیشو ہوتی جو موٹاپہ سے بچانے والا کردار ادا کرتی ہے اور ایک محقق نے یہ بھی کہا کہ اس انکتشاف کے ذریعہ موٹاپہ سے بچنے کے لئے ایک علاج کو ترقی دیا جا سکتا ہے۔
جمعہ – 27 ذی الحجہ 1439 ہجری – 07 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14528)