اسٹوکہولم کا معاہدہ خلاف عادت اور نفاذ کے امتحان کا انتظار
اسٹوکہولم: بدر القحطانی کل سویڈن میں یمن کے مذاکرات کا اختتام ہوا ہے اور ان لوگوں نے اس مذاکرات میں ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے بارے میں سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ یہ خلاف معمول بات ہے جس کے نفاذ کے سلسلہ میں امتحان کا انتظار ہے اور اس […]

اسٹوکہولم: بدر القحطانی
کل سویڈن میں یمن کے مذاکرات کا اختتام ہوا ہے اور ان لوگوں نے اس مذاکرات میں ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے بارے میں سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ یہ خلاف معمول بات ہے جس کے نفاذ کے سلسلہ میں امتحان کا انتظار ہے اور اس معاہدہ میں حوثی اور حکومت دونون فریق نے حدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہ سے دو مرحلوں میں حوثیوں کے پیچھے ہٹنے اور ایک مشترکہ کمیٹی بنا کر تعز شہر سے حوثیوں کے محاصرہ کو ختم کرنے کے سلسلہ میں معاہدہ کیا ہے اور اس کمیٹی کا کام جنگ بندی اور انسانی مدد کے لئے گذرگاہیں کھولنا ہیں اور صنعاء ایئرپورٹ کی صورتحال معاشی پہلو اور سیاسی حل کے مذاکراتی پہلو جیسے پیچیدہ مسائل کو آئندہ ماہ کے آخر میں ہونے والے مرحلہ کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان فرحاق حق نے کل پرزور انداز میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گوتریس نے فون کے ذریعہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد ابن سلمان اور یمن کے صدر عبہ ربہ منصور ہادی سے گفتگو کی اور کہا کہ حدیدہ گورنریٹ میں جنگ بندی معاہدہ کے سلسلہ میں کافی مدد ملی ہے۔
اسی سلسلہ میں واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد ابن سلمان نے پرزور انداز میں بات کی ہے کہ یمن اور علاقہ کے اندر دوبارہ امن واستقرار کی بحالی اور بحر احمر کی حفاظت کے سلسلہ میں بڑا اقدام ہے اور انہوں نے اپنی امید کا اظہا کیا ہے کہ حوثی لوگ ایران کے لئے کام کرنا چھوڑ دیں گے اور وہ اپنے ملک کے لئے کام کرین۔
جمعہ 06 ربیع الثانی 1440 ہجری – 14 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14626]