پہلا صفحہ

مغربی کنارہ میں جنگ کا ماحول اور اسرائیل کی طرف سے دوسری مرتبہ کشیدگی کے خدشات

رام اللہ ۔ تل ابیب: "الشرق الاوسط” کل اسرائیل نے رام اللہ کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا ہے اور اس نے وہاں کی عوام کو شہر میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے بالکل روک دیا ہے اور قابض فورسز نے ایسی سرگرمیاں انجام دی ہیں کہ مغربی […]

مغربی کنارہ میں جنگ کا ماحول اور اسرائیل کی طرف سے دوسری مرتبہ کشیدگی کے خدشات

رام اللہ ۔ تل ابیب: "الشرق الاوسط”

کل اسرائیل نے رام اللہ کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا ہے اور اس نے وہاں کی عوام کو شہر میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے بالکل روک دیا ہے اور قابض فورسز نے ایسی سرگرمیاں انجام دی ہیں کہ مغربی کنارہ مکمل طور پر جنگ کا میدان بن چکا ہے اور دوبارہ غیر معمولی کشیدگی پربا ہو گئی ہے جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور فلسطینین نوجوانوں کی گولیوں سے دو فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں اور یہ حملہ اسرائیلی فورسز کی طرف سے چار فلسطینیوں کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے کے بعد کیا گیا ہے اور اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی اس کاروائی میں عشوائی طور پر لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سنہ 2002 میں مرحوم صدر یاسر عرفات کو ان کے گھر میں قید بند کرنے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مغربی کنارہ کی کشیدگی نے تیسری مرتبہ ہونے والی جنگ کے سلسلہ میں اسرائیل کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے اور اسرائیل میں مخالف جماعت کی خاتون صدر ٹسیبی لیفنی نے حکومت اور اس کے صدر بنیامین نٹن یاہو کو حالات کے دگرگوں ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سلسلہ میں وہ فوج کے ساتھ ہیں اور اسی طرح فلسطینی حکومت نے بھی اس تشدد کی ذمہ داری تل ابیب پر لگائی ہے۔

جمعہ 06 ربیع الثانی 1440 ہجری – 14 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14626]