امريكہ

ٹرمپ علیحدگی کے پابند اور ہمنواء متبادل کے متلاشی

واشنگٹن ۔ ماسکو ۔ پیرس ۔ انقرہ ۔ تل ابیب: "الشرق الاوسط” امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کل چونکا دینے والے اپنے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شام میں داعش کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہاں سے مکمل طور پر اپنی فورسز کو واپس […]

ٹرمپ علیحدگی کے پابند اور ہمنواء متبادل کے متلاشی

واشنگٹن ۔ ماسکو ۔ پیرس ۔ انقرہ ۔ تل ابیب: "الشرق الاوسط”

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کل چونکا دینے والے اپنے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شام میں داعش کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہاں سے مکمل طور پر اپنی فورسز کو واپس بلا لیا ہے جبکہ بین الاقوامی اتحاد میں ان کے ہمواء داعش کے خلاف جنگ کرنے کے لئے متبادل کی تلاش میں لگے ہیں۔

ٹرمپ نے پہلے ہی اپنے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ سنہ 2016ء کے انتخابات کی مہم کے دوران قطعی طور پر شام سے نکلنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے وعدہ کو پورا کریں گے اور یہ بھی سوال کیا کہ کیا ریاستہائے متحدہ امریکہ مشرق وسطی کی پولس ہے کہ ان کے لئے قیمتی جانیں داؤ پر لگائے اور ان لوگوں کی حمایت کرنے میں ٹریلین ڈالر کرنے کے سوا اسے کچھ نہ ملے جو ہماری خدمات کی کوئی قدر نہ کریں؟ کیا ہم وہاں ہمیشہ رہیں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ دوسرے جنگ کریں۔

شام میں داعش کے خلاف فضائی حملہ بند کرنے کے سلسلہ میں امریکی ذمہ داروں گفتگو کی ہے لیکن وزارت دفاع نے کہا کہ جب تک جنگ ہوتی رہے گی اس وقت تک امریکی جنگجو وہاں رہیں گے کو کیونکہ واشنگٹن کی ہمنوا عرب اور کرد پر مشتمل شام کی ڊیموکریٹک فورسز نے آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے فیصلہ کے بعد تنظیم میں دوبارہ جان آچکی ہے اور انقرہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ شمالی شام کی خندقوں میں کرد یونٹس کو دفن کر دے گا۔

برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کے اس فیصلہ اور داعش کی سکشت کے سلسلہ میں کی جانے والی گفتگو پر تنقید کیا ہے اور پیرس نے اعلان کیا یے کہ اس کے فورسز شام میں رہیں گے جبکہ روسی صدر ولادیمیئر پوٹن کہا کہ وہ بڑی حد تک اس بات سے موافق ہیں کہ داعش کی سکشت ہو چکی ہے لیکن انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ ابھی نفاذ کے سلسلہ میں تھوڑا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔(۔۔۔)

جمعہ 13 ربیع الثانی 1440 ہجری – 21 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14633]