اسٹوکہولم معاہدے کی حمایت کے لئے برطانوی نقل وحرکت
لندن: بدر القحطانی لندن نے اقوام متحدہ کے فیصلہ کے سلسلہ میں نقل وحرکت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان اسٹوکہولم کے معاہدے کے شرائط کی تائید کرے گا اور اقوام متحدہ کو اس کے نفاذ کی نگرانی کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا اور انسانی […]

لندن: بدر القحطانی
لندن نے اقوام متحدہ کے فیصلہ کے سلسلہ میں نقل وحرکت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان اسٹوکہولم کے معاہدے کے شرائط کی تائید کرے گا اور اقوام متحدہ کو اس کے نفاذ کی نگرانی کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا اور انسانی مسئلہ کو کم کرنے کے لئے اس نے جلد منصوبے بھی بنا لئے ہیں۔
برطانیہ سلامتی کونسل میں دائمی رکن پانچ ممالک کے ساتھ مل کر اپنی کوشش کو جاری رکھنے کے لئے معاہدے کی حمایت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی کوشش یمن میں امن وسلامتی کی نگرانی کرنے والے پلس انیس ممالک کے مجموعہ کو شامل کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے اور ان مین س فہرست سعودی عرب ہے جس کی قیادت میں اتحاد سنہ 2015ء سے اپنی کارکردگی انجام دے رہا ہے تاکہ قانونی حکومت کو دوبارہ لایا جاسکے جس کے خلاف حوثیوں نے بغاوت کیا تھا اور سنہ 2014ء سے یمن کو بحران میں ڈال دیا ہے۔
کل پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران برطانوی وزیر خارجہ گیرمی ہانٹ نے اعلان کیا کہ ان کا ملک سلامتی کونسل سے اگلے 24 گھنٹے کے اندر تجویز پر ووٹ ڈالنے کا مطالبہ کرے گا۔
مشرق وسطی اور شمال افریقہ کے برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان اڈون سموئیل نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ میں اسٹوکہولم ماہدے کے خد وخال موجود ہیں اور انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ برطانیہ ہی نے قانونی حکومت کے ساتھ گفتگو کرکے اور بیٹھ کر مذاکرات کرکے حوثیوں کو بچایا ہے اور اس بات کی بھی تاکید کی کہ برطانیہ حلوں کی مدد کرکے یمنی عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے اعر یی بھی کہا کہ حوثیوں نے مکمل طور پر سمجھ لیا ہے کہ مذاکرات کا طریقہ اختیار کرکے انہیں اپنے آپ کو بچانا ہے۔
موجودہ خلاف ورزیوں کے باوجود جس وقت یمن کی حکومت نے حدیدہ معاہدہ کی پابندی کا مظاہرہ کیا ہے اس وقت فرانسیسی صحافتی ایجنسی نے یمن میں قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ذریعہ سے معاہدہ کے ختم ہونے سے آگاہی کو نقل کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ پیر اور منگل جے نصف رات سے شروع ہونے والے معاہدہ کے بعد اکیس خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی نگرانی میں حدیدہ کمیٹی نے یمنی حکومت اور حوثیوں کے ساتھ بات کرکے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے جیسا کہ یمن کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رابطہ صرف تعارف کے لئے تھا اور اس نے مزید یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی نگاہ پہلے پہل انسانی پہلؤوں پر ہے اور یمنی حکومت کا بھی یہی مقصد ہے۔
جمعرات 12 ربیع الثانی 1440 ہجری – 20 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14632]