وقت سے قبل اسرائیل میں انتخاب اور نٹن یاہو کو اپنی کامیابی کا انتظار
تل ابیب: "الشرق الاوسط” کل اسرائیل میں حکومتی اتحاد میں مشترکہ پارٹیوں کے رہنماؤں نے کنیسٹ کو بھنک کرکے سنہ 2019ء کے اپریل ماہ کے شروع میں وقت سے پہلے انتخابات کرنے کی آواز کو بلند کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نٹن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کی حکومت […]

تل ابیب: "الشرق الاوسط”
کل اسرائیل میں حکومتی اتحاد میں مشترکہ پارٹیوں کے رہنماؤں نے کنیسٹ کو بھنک کرکے سنہ 2019ء کے اپریل ماہ کے شروع میں وقت سے پہلے انتخابات کرنے کی آواز کو بلند کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نٹن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کی حکومت کے اندر کشیدگی کی خبر ہے اور امید ہے کہ ان پر بدعنوانی کا الزام لگائے جانے کی وجہ سے قانونی مشاکل اور غزہ میں ہونے والی ان کی حالیہ پالیسیوں پر تنقید کرنے کے باوجود دس سال سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والے نٹن یاہو اس انتخاب میں کامیاب ہوں گے اور نٹن یاہو نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ اپنے معاہدوں اور پالیسیوں پر برقرار رہیں گے اور یہ بھی اشارہ کیا کہ موجودہ اتحاد کی بنیاد پر ہی اگلا اتحاد بنے گا اور یہ بھی کہا کہ ہماری پالیسیوں کے ذریعہ ملک کی مسلسل قیادت کرنے کے سلسلہ میں ووٹ دینے والوں سے واضح انداز میں ایک ذمہ داری کا مطالبہ کریں گے۔
مدت ختم ہونے والے اسرائیلی وزیر اعظم کی امید ہے کہ وہ کنیسٹ میں اپنی گنشدہ اکثریت حاصل کر لیں گے اور حکومت اتحاد کو گذشتہ ماہ حکومت کے وزیر دفاع اویگدور لیبرمین کے استعفی دینے اور اسرائیل ہمارا گھر ہے بامی متشدد قومی پارٹی کا حکومت سے نکلنے کے بعد کمیٹی کو ایک سو بیس میں سے صرف اکسٹھ سیٹ مل پائیں گے۔(۔۔۔)
منگل 17 ربیع الثانی 1440 ہجری – 25 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14637]