سعودی عرب کی نئی حکومت میں سیاسی اور معاشی کمیٹی کے اندر تبدیلی
ریاض: "الشرق الاوسط” خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے اپنی صدارت میں کبینیٹ کی دوبارہ تشکیل کرنے کے بعد سعودی عرب کی حکومت کے ضمن میں دیگر ذمہ داریوں کے نئے تجربہ کا اہم وزراء اور رہنماؤں کے نام کا انتخاب کیا ہے اور اس کے علاوہ نائب […]

ریاض: "الشرق الاوسط”
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے اپنی صدارت میں کبینیٹ کی دوبارہ تشکیل کرنے کے بعد سعودی عرب کی حکومت کے ضمن میں دیگر ذمہ داریوں کے نئے تجربہ کا اہم وزراء اور رہنماؤں کے نام کا انتخاب کیا ہے اور اس کے علاوہ نائب وزیر اعظم ولی عہد بھی اس میں شامل ہیں اور یہ ساری تبدیلی سابق کمیٹی کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
کل شاہ سلمان کی طرف سے صادر ہونے والے شاہی فرمان میں بہت سی تبدیلیاں شامل ہیں اور ان تبدیلیوں میں وزارت جارجہ ہے جس کے ذمہ دار وزیر ابراہیم العساف ہوں جو پہلے مالیت کے وزیر اور کیبینیٹ کے رکن تھے جبکہ ملک کے خارجی امور وزارت کے ذمہ دار عادل الجبیر ہوں گے اور جہاں تک قومی حمایتی وزارت کی بات ہے تو اس کے ذمہ دار شہزادہ عبد اللہ ابن بندر ہوں گے جو پہلے مکہ مکرمہ کے امیر کے نائب تھے۔
ان نئے ناموں میں ڈاکٹر حمد آل شیخ کا بھی نام ہے جو پہلے وزیر تعلیم تھے اور ترکی الشبانہ ہیں جو اب میڈیا کے وزیر ہوں گے جبکہ شہزادہ ترکی ابن محمد ابن فہد کیبینیٹ کے ایک وزیر کے طور ہر شمار ہوں گے اور ایمان المطیری کا انتخاب اسسٹنٹ وزیر تجارت کے طور پر ہوا ہے۔
اسی طرح ولی عہد اور دیگر وزراء اور ذمہ داروں کی صدارت میں معاشی امور سیکورٹی اور سیاسی امور کی کمیٹیوں کو دوبارہ تشکیل کرنے اور ایسے نئے ادارے قائم کرنے کے سلسلہ میں شاہی فرمان جاری ہوئے ہیں جن میں سعودی عرب کا اسپیس ادارہ ہے جس کے صدر شہزادہ سلطان ابن سلمان ہیں جو پہلے سیاحت اور قومی تراث کی جنرل اتھارٹی کے صدر تھے اور اس کے علاوہ وزراء کیمٹی کے لئے ایک دیوان قائم کیا گیا ہے اور شاہی دیوان میں شاہی مراسم کو شامل کیا گیا ہے اور کانفرنس اور میلوں کے لئے نیا ادارہ بنایا گیا ہے اور اخیر میں ترکی آل شیخ کو ورزش ادارہ سے ہٹا کر ترفیہی ادارہ کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
جمعہ 20 ربیع الثانی 1440 ہجری – 28 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14640]