ٹرمپ عراق میں اور شام سے انخلاء کا دفاع
بغداد: "الشرق الاوسط” امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عراق میں موجود اپنے ملک کی فورسز کو اپنے صدر بننے کے بعد سے اب تک کے پہلے دورہ سے اچنبھے میں ڈال دیا ہے اور یہ دورہ شام سے امریکی فورسز کے انخلاء کے سلسلہ میں ٹرمپ کے فیصلہ کے بارے میں […]

بغداد: "الشرق الاوسط”
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عراق میں موجود اپنے ملک کی فورسز کو اپنے صدر بننے کے بعد سے اب تک کے پہلے دورہ سے اچنبھے میں ڈال دیا ہے اور یہ دورہ شام سے امریکی فورسز کے انخلاء کے سلسلہ میں ٹرمپ کے فیصلہ کے بارے میں ہونے والے اختلاف کی وجہ سے وزیر دفاع جیمس ماٹیس کی طرف سے دئے جانے والے استعفی کے بعد ہوا ہے اور کل اسی فیصلہ کا دفاع ٹرمپ نے دوبارہ کیا ہے اور کہا کہ بہت سے لوگ میرے فکر سے مطمئن ہیں اور اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنا عقل استعمال کریں۔
اس کے برعکس ٹرمپ نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ عراق سے انخلاء کسی بھی حال میں نہیں کریں گے اور یہ بھی اشارہ کیا کہ وہ اپنی فورسز کو ایک بیس کی طرح یہاں جمع کریں گے تاکہ شام میں ضرورت کے وقت اس کا استعمال کیا جا سکے۔
مغربی بغداد میں عین الاسد نامی فضائی اس بیس میں صحافیوں سے کہا جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ نئے سال کی مناسبت سے اپنے کے علاقہ میں تین گھنٹہ کا وقت گزارا اور انہوں نے اس سے قبل اپنے مشیر کار سے کہا کہ چلو ہم شام سے نکل جاتے ہیں لیکن انہوں نے ریاستہائے متحدہ کی طرف اپنے دو ہزار فوجی کو واپس ہونے سے وہی رہنے کے سلسلہ میں قانع کر لیا اور پرزور انداز میں کہا کہ نیا وزیر دفاع کے انتخاب کرنے کے سلسلہ میں جلدبازی سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اب وزیر کا کام بیٹریک شاناہان کریں گے ممکن ہے کہ وہ لمبی مدت تک اس عہدہ پر رہیں۔
جمعرات 19 ربیع الثانی 1440 ہجری – 27 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14639]