پہلا صفحہ

امریکی خلاء کو پورا کرنے کے لئے روس اور ترکی کے درمیان معاہدہ

ماسکو: رائد جبر واشنگٹن: "الشرق الاوسط” ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے شمالی شام سے اپنے فورسز کو واہس بلا لینے کے سلسلہ میں کئے جانے والے فیصلہ بعد کل ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے دوران روس اور ترکی نے شام میں میدانی طور پر نقل وحرکت کرنے کے بارے […]

امریکی خلاء کو پورا کرنے کے لئے روس اور ترکی کے درمیان معاہدہ

ماسکو: رائد جبر واشنگٹن: "الشرق الاوسط”

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے شمالی شام سے اپنے فورسز کو واہس بلا لینے کے سلسلہ میں کئے جانے والے فیصلہ بعد کل ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے دوران روس اور ترکی نے شام میں میدانی طور پر نقل وحرکت کرنے کے بارے میں معاہدہ کیا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سیرگی لاورو نے مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں فریق ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے اپنے فورسز کو واپس بلا لینے کے سلسلہ میں کئے جانے والے فیصلہ کے بعد ظاہر ہونے والے نئے صورتحال پر خاص توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں لیکن منبج میں مذاکرات اور اس کے اثرات اور مشرقی فرات کے علاقہ میں ترکی کی طف سے ممکنہ فوجی کاروائی کے سلسلہ میں لاورو کی طرف سے کسی قسم کی وضاحت نہ ہونے کے باوجود کل اپنے ترکی ہم منصب مولود جاویش اوگلو کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے اختتام کے وقت مطمئن تھے اور انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مذاکرات مفید تھے اور اگلے مرحلہ میں زمین پر مطلوبہ نقل وحرکت کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرات میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ جانبین کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ نئی صورتحال کے سلسلہ میں ترکی اور روس کے فوجی نمائندوں کے درمیان منصوبہ کی ترتیب کے سلسلہ میں تھا اور دونوں فریق شام میں مکمل طور پر دہشت گردی کی دھمکی کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کے سکسلہ میں پرعزم ہیں۔

اسی سلسلہ میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے کہا کہ ہم نے امریکی فورسز کے انخلاء کے دائرہ مشترکہ کام کے طریقوں کے سلسلہ میں گف وشنید کیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہر قسم کی دہشت گرد تنظیم سے شام کی سرزمین کو پاک وصاف کرنے کا مشترکی عزم وارادہ ہے۔

اسی سلسلہ میں امریکہ کے چار ذمہ داروں نے کہا کہ وزارت دفاع یعنی پنٹاگون کے رہنماء شام سے امریکی فورسز کے انخلاء کے سلسلہ میں منصوبہ بنا رہے ہیں اور انہوں نے داعش کے خلاف جنگ کرنے والے کرد جنگجؤوں کو بتا دیا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ہتھیاروں کی حفاظت کریں اور روئٹرز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرنے والے ان کے تین رینماؤں نے اپنا نام ذکر نہ کئے جانے کی شرط کے ساتھ کہا ہے کہ یہ وصیت امریکی فوج کے منصوبہ بندی کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرات کا ایک حصہ ہے اور پنٹاگون کی طرف سے وائٹ ہاؤس کے حوالہ کئے جانے والی وصیت کا ابھی کسی کو علم  نہیں ہے۔

اتوار 22 ربیع الثانی 1440 ہجری – 30 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14642]