ایران اور اسرائیل کی طرف سے روسی کھیل کا امتحان
لندن: ابراہیم حمیدی شام میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی چھڑپیں اس وقت کھل کر سامنے آئیں جب تل ابیب نے دمشق کے قریب ایرانی جگہوں کو نشانہ بنانے اور ماسکو نے حملہ کے درمیان شامی حکومت کے فورسز کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا۔ […]

لندن: ابراہیم حمیدی
شام میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی چھڑپیں اس وقت کھل کر سامنے آئیں جب تل ابیب نے دمشق کے قریب ایرانی جگہوں کو نشانہ بنانے اور ماسکو نے حملہ کے درمیان شامی حکومت کے فورسز کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا۔
30 جنوری سنہ 2013 کو دمشق کے قریب اسرائیل کی طرف سے ہونے والے حملہ کے بعد گذشتہ سال 10 فروری کو ہونے والے حملہ بہت زیادہ سخت گہرے اور شامل تھے لیکن کل اسرائیل کی طرف سے ہونے والے حملوں میں تل ابیب دمشق تہران اور ماسکو کے درمیان نئے معانی اور مفاہیم پوشیدہ تھے اور یہ اشارے بھی تھے کہ آپس میں کشمکش کرنے والے فریق ایک نیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں جو پہلے پانچ سالوں میں کھیلے جانے والے کھیل سے مختلف ہے اور اسی طرح اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تل ابیب اور تہران شام میں روسی ایئر بیس کا امتحان لے رہے ہیں اور خاص طور پر یہ حملہ اس اعلان کے بعد ہوا ہے جس میں کشمکش کو روکنے کے لئے ہونے والے معاہدہ کو نافذ کرنے اسرائیل اور روس کے درمیان معاہدہ کی بات کہی گئی تھی۔(۔۔۔)
منگل 16 جمادی الاول 1440 ہجری – 22 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14665]