الشرق الاوسط کے ساتھ جبرئیل کی گفتگو: صخیرات معاہدہ کی وجہ سے لیبیا کا بحران دگرگوں
قاہرہ: جمال جوہر لیبیا کے ایگزیکٹو دفتر کے سابق صدر ڈاکٹر محمود جبریل اور قومی فورسز اتحاد کے صدر نے صخیرات معاہدہ کو لیبیا کے بحران کے دگرگوں ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور پرزور انداز میں کہا ہے کہ ابھی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی طرف منتقل ہونے […]

قاہرہ: جمال جوہر
لیبیا کے ایگزیکٹو دفتر کے سابق صدر ڈاکٹر محمود جبریل اور قومی فورسز اتحاد کے صدر نے صخیرات معاہدہ کو لیبیا کے بحران کے دگرگوں ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور پرزور انداز میں کہا ہے کہ ابھی صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی طرف منتقل ہونے کے لئے ملک کے اندر اقوام متحدہ کے وفد کی طرف سے منعقد ہونے والی بڑی نیشنل فورم میں زمین پر فعال تمام فریقوں کو حاضر ہونے کی ضرورت ہے۔
جبریل نے الشرق الاوسط کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کہا کہ آنے والی کانفرنس میں لیبیا کے واضح ویزن کے سلسلہ میں گفت وشنید کرنی بہت ضروری ہے تاکہ صخیرات معاہدہ جیسا دوسرا کوئی معاہدہ نہ کر لیں اور یاد رہے کہ 17 دسمبر سنہ 2015ء کو مغرب میں یہ معاہدہ ہوا تھا اور سب لوگ صرف سننے کے لئے گئے تھے اور سیاسی معاہدہ کے اوراق پر جس نے دستخط کیا وہ صرف اقوام متحدہ کے سفیر پیرناڈینو لیون تھے۔
بدھ 01 جمادی الآخر 1440 ہجری – 06 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14680]