بنی صدر: تہران آٹھ جنگوں میں داخل ہونے والا ہے
پیرس: مائکل ابو نجم ایران کے سابق صدر ابو الحسن بنی صدر نے پرزور انداز میں کہا کہ تہران میں حکومت کرنے والی انتظامیہ شاہ کی انتظامیہ سے زیادہ فاسد اور ڈکٹیٹر ہے اور اس نے قانونی جواز کے لئے اپنے اوپر دین کا لبادہ ڈال رکھا ہے اور انہوں نے […]

پیرس: مائکل ابو نجم
ایران کے سابق صدر ابو الحسن بنی صدر نے پرزور انداز میں کہا کہ تہران میں حکومت کرنے والی انتظامیہ شاہ کی انتظامیہ سے زیادہ فاسد اور ڈکٹیٹر ہے اور اس نے قانونی جواز کے لئے اپنے اوپر دین کا لبادہ ڈال رکھا ہے اور انہوں نے فرانس کے فرسائی شہر میں واقع اپنے گھر پر "الشرق الاوسط” کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کہا کہ ایران ابھی آٹھ جنگوں میں داخل ہونے والا ہے اور یہ آٹھ جنگیں مندرجہ ذیل ہیں، اقتصادی جنگ، شام کے اندر براہ راست اور دیگر جگہوں میں بلا واسطہ فوجی جنگ، دہشت گردی کے ذریعہ جنگ، دینی جنگ، ڈپلومیٹک جنگ، خارجی پروپیگنڈہ کی جنگ اور اسرائیلی وامریکی دھمکیوں کی جنگ ہیں اور انہوں نے انتظامیہ کو علاقہ کے اندر مداخلت بند کرکے ایرانی عوام کا اہتمام کرنے کی دعوت دی ہے۔
بنی صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے زمانہ میں ایران کے اندر احتجاجی تحریک انتظامیہ کے اندرون سے اصلاحات کرنے کا مطالبہ کرتی تھی اور یہ ربیع عرب سے مختلف تھی کیونکہ مطالبات انتظامیہ کو تبدیل کرنے کی تھے نہ کہ پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے تھے۔
جمعرات 02 جمادی الآخر 1440 ہجری – 07 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14681]