امريكہ

امریکی کمی کو مکمل کرنے کے لئے مشرقی شام میں ایران کی نقل وحرکت

واشنگٹن: ہبہ القدسی ماسکو: رائد جبر ایران نے امریکی انخلاء کے بعد ہونے والی کمی کو پر کرنے کی کوشش میں مشرقی شام کے اندر اپنے میلیشیاؤں کے اہلکار کو فوجی بھرتے کرنے کے لئے میدانی نقل وحرکت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے اور حقوق انسان کی شامی رصدگاہ نے […]

امریکی کمی کو مکمل کرنے کے لئے مشرقی شام میں ایران کی نقل وحرکت

واشنگٹن: ہبہ القدسی ماسکو: رائد جبر

ایران نے امریکی انخلاء کے بعد ہونے والی کمی کو پر کرنے کی کوشش میں مشرقی شام کے اندر اپنے میلیشیاؤں کے اہلکار کو فوجی بھرتے کرنے کے لئے میدانی نقل وحرکت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے اور حقوق انسان کی شامی رصدگاہ نے بتایا ہے کہ ایرانی وفد نے میادین نامی شہر کا دورہ کر کے شہر اور گاؤں کے نوجوانوں کو اپنے علاقہ کی طرف واپس ہونے اور ایرانی فورسز وہم نواں میلیشیاؤں کی صف میں شامل ہونے پر آمادہ کیا ہے۔

یہ دورہ اس وقت ہوا جب راستوں اور شہروں کو بنانے والے ایرانی وزیر محمد اسلامی نے ایک ایسے تیز راستہ کا افتتاح کیا جو مغربی ایران کے کرمان شاہ علاقہ کو مشرقی شام کے حمیل نامی شہر سے جوڑتی ہے اور کل تہران نے شام کے اس وزیر خارجہ ولید معلم کا استقبال کیا جنہوں نے اقتصادی تعاون کو جاری کرنے کے لئے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔

اسی سلسلہ میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے روسی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کا ملک دمشق اور انقرہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا اور ایک پرامن علاقہ قائم کرنے کے سلسلہ میں انقرہ کے اصرار پر غیر مباشر انداز میں تنقید کرتے ہوئے ظریف نے کہا کہ ایک استعمار کو دوسرے استعمار کی جگہ قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات 02 جمادی الآخر 1440 ہجری – 07 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14681]