سبھا نامی فوجی علاقہ کا کمانڈر منتخب کئے جانے کے بعد حفتر اور سراج کے اختلافات میں مزید اضافہ
قاہرہ: خالد محمود کل قومی وفاقی حکومت کے صدر فائز السراج نے قومی فوج کے کمانڈر مشیر کار خلیفہ حفتر کے ساتھ اپنے اختلافات کو اس وقت سنگین بنا دیا جب انہوں نے علی الاعلان اس فوجی کاروائی پر تنقید کیا جسے حفتر نے جنوب کے علاقہ کو آزاد کرانے کے […]

قاہرہ: خالد محمود
کل قومی وفاقی حکومت کے صدر فائز السراج نے قومی فوج کے کمانڈر مشیر کار خلیفہ حفتر کے ساتھ اپنے اختلافات کو اس وقت سنگین بنا دیا جب انہوں نے علی الاعلان اس فوجی کاروائی پر تنقید کیا جسے حفتر نے جنوب کے علاقہ کو آزاد کرانے کے لئے کیا اور جب سبھا نامی فوجی علاقہ کے لئے ایک نیا کمانڈر منتخب کرکے اسے فوج کا اعلی کمانڈر سمجھ لیا۔
اسی سلسلہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے اختلافات میں مزید ذیادتی ہوگی اور کل سراج کی حکومت نے فیس بک کے اپنے سرکاری صفحہ پر ذکر کیا ہے کہ اس نے سبھا نامی فوجی علاقہ کے لئے کرنل رکن علی کنہ کو کمانڈر بنائے جانے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دینے کا ایک نیا فیصلہ صادر فرمایا ہے اور اس فیصلہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دورہ کرنے والے ملک کے اعلی کمیٹی کے موجودہ صدر خالد المشیری کی درخواست کی قبولیت نظر آ رہی ہے۔
اسی درمیان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی علاقہ میں موجود لیبیا کے سب سے بڑے تیل کے خزانہ پر قبضہ کی تیاری کرنے کے لئے حفتر اور سراج کے درمیان ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے جبکہ سراج کے تابع مغربی فوجی علاقہ کے کمانڈر کرنل اسامہ جویلی کی طرف سے خزانہ کی سمت تیل پروڈکٹ حمایت اہلکار کے فورسز کے ذریعہ ہونے والی نقل وحرکت کے سلسلہ میں ملنے والی تاکید کے چند گھنٹوں ہی بعد اعلان کیا گیا کہ چند مسلح افراد نے خزانہ پر حملہ کر دیا ہے اور اشارہ کیا گیا کہ ضرورت کے وقت اس فورس کی مدد کی جائے گی۔
جمعرات 02 جمادی الآخر 1440 ہجری – 07 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14681]