حوثیوں اور قانونی حکومت کے درمیان ہلاک شدہ لوگوں کے جسم کے تبادلہ کرنے کے سلسلہ میں معاہدہ
جدہ: سعید الابیض ۔ نیویارک: علی بردی ۔ عمان: "الشرق الاوسط” اردن کی دار الحکومت عمان میں یمن کی قانونی حکومت اور حوثی جماعت کے دونوں جمع ہونے والے وفد نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہلاک شدگان کے جسم کو منتقل کرنے کے سلسلہ میں معاہدہ کیا ہے۔ […]

جدہ: سعید الابیض ۔ نیویارک: علی بردی ۔ عمان: "الشرق الاوسط”
اردن کی دار الحکومت عمان میں یمن کی قانونی حکومت اور حوثی جماعت کے دونوں جمع ہونے والے وفد نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہلاک شدگان کے جسم کو منتقل کرنے کے سلسلہ میں معاہدہ کیا ہے۔
عمان کی سرکاری ذرائع نے ذکر کیا ہے کہ گفتگو کرنے والے وفد نے ہلاک شدگان کے جسم کو منتقل کرنے کے سلسلہ میں حوثی جماعت کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تین مراحل ہیں اور اس معاہدہ کے ذریعہ دو ہزار جسم منتقل کئے جائیں گے۔
حوثی جماعت اور حکومت کے نمائندوں نے اس فائل کے سلسلہ میں گذشتہ بدھ کے دن مذاکرات کا آغاز کیا تھا اور اس سے قبل گرفتار اور قیدیوں کے سلسلہ میں مذاکرات ہو چکے ہیں اور اس مذاکرات کی بنیاد پر ان کی فہزست بھی بنائی گئی ہے اور آخری معاہدہ سے قبل ردود فعل بھی ہوئے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ جسم کو منتقل کرنے کا پہلا مرحلہ عمان کے موجودہ مذاکرات کے ختم ہونے کے تین ہفتوں کے بعد کیا جائے گا اور امید ہے کہ یہ مذاکرات آخری فہرست کے جاری کئے جانے تک جاری رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق معاہدہ کے اس پہلے مرحلہ میں ہاسپٹل کے فریز میں رکھے ہوئے ہر فریق کے مہلوکین کے جسم کو منتقل کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلہ میں چھرپ والے علاقہ سے دور قبروں میں مدفون جسم کو منتقل کیا جائے گا اور یہ مرحلہ پہلے مرحلہ کے ختم ہونے کے بعد دو ماہ جاری رہے گا۔
تیسرے مرحلہ میں مختلف محاذوں پر التماس کے سرحد کے قریب مدفون جسموں کو منتقل کیا جائے گا اور جنگ بندی کی وجہ سے اس مرحلہ کا کوئی وقت محدود نہیں ہے۔
سرکاری وفد نے پرزور انداز میں کہا کہ قیدیوں اور اچک لئے جانے والے افراد سے متعلق خاص کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ 235 افراد کو اچک کر انہیں قیدی بنا لیا گیا ہے۔
ہفتہ 04 جمادی الآخر 1440 ہجری – 09 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14683]