نٹن یاہو کی طرف سے وارسو میں ڈپلومیٹک بحران کا آغاز
تل ابیب: نظیر مجلی اسرائیلی وزیر اعظم نٹن یاہو وارسو کانفرنس اور ویسگراڈ سربراہی اجلاس کے بارے میں یہ سمجھ رہے تھے کہ اس میں انتخابی جنگ کے اپنے حریف سے مقابلہ ہوگا لیکن معاملہ ان کی سوچ سے مختلف سامنے آیا کیونکہ وہ بالینڈ کی حکومت اور وارسو کانفرنس میں […]

تل ابیب: نظیر مجلی
اسرائیلی وزیر اعظم نٹن یاہو وارسو کانفرنس اور ویسگراڈ سربراہی اجلاس کے بارے میں یہ سمجھ رہے تھے کہ اس میں انتخابی جنگ کے اپنے حریف سے مقابلہ ہوگا لیکن معاملہ ان کی سوچ سے مختلف سامنے آیا کیونکہ وہ بالینڈ کی حکومت اور وارسو کانفرنس میں شریک ہونے والوں کے ساتھ کئی دپلومیٹک جنگ میں داخل ہو گئے۔
یہ بات سامنے آئی کہ نٹن یاہو نے کانفرنس کے رازدارانہ اجلاسات کے واقعات کی ایک ویڈیو نشر کر دی ہے پھر ایک بیان میں کہا کہ بالینڈ والے یہود کو قتل کرنے میں شریک تھے اور کانفرنس میں شریک ہونے والے بہت سے لوگوں نے نٹن یاہو کی تصرفات سے پریشانی کا اظہار کیا اور بالینڈ کے لوگ تو ان کی گفتگو پر بھڑک ہی گئے تھے۔
وارسو حکومت نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ بالینڈ حکومت کے صدر ماٹیوچ موراوسکی اس ویسگراڈ سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو بیت المقدس میں پیر کے دن مجر، ٹچیک اور سلوواکیا کے صدر کی مشارکت میں منعقد ہوگا۔
ہفتہ 11 جمادی الآخر 1440 ہجری – 16 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14690]