پہلا صفحہ

عرب کی طرف سے گولان پہاڑی کے دستاویز کا انکار اور علاقہ کے امن واستقرار کے سلسلہ میں بے چینی

نیویارک: علی بردی ۔ ریاض ۔ ابو ظبی ۔ بیروت ۔ لندن: الشرق الاوسط شام کی مقبوضہ گولان پہاڑی پر اسرائیل کی سیادت کے سلسلہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے ہونے والے اعلان کی تردید میں مسلسل رد فعل کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ اس بات […]

عرب کی طرف سے گولان پہاڑی کے دستاویز کا انکار اور علاقہ کے امن واستقرار کے سلسلہ میں بے چینی

نیویارک: علی بردی ۔ ریاض ۔ ابو ظبی ۔ بیروت ۔ لندن: الشرق الاوسط

شام کی مقبوضہ گولان پہاڑی پر اسرائیل کی سیادت کے سلسلہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے ہونے والے اعلان کی تردید میں مسلسل رد فعل کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ اس بات کے خدشات بھی ظاہر ہو رہے ہیں کہ اس دستاویز کی وجہ سے علاقہ کے امن واستقرار اور سلامتی کی کاروائی کو بہت نقصان پہنچے گا۔

سعودی عرب کی وزراء کمیٹی نے کل ریاض شہر کے یمامہ محل کے اندر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران ازسر نو کہا کہ سعودی عرب امریکی انتظامیہ کی طرف سے کئے جانے والے اعلان کا مکمل طور پر بائکاٹ کرتے ہوئے اس کی مذمت کرتا ہے اور گولان پہاڑی کے سلسلہ میں سعودی عرب اپنے موقف پر قائم ہے کہ یہ پہاڑی شامی عرب کی ہے اور اس پر قبضہ کیا گیا ہے۔(۔۔۔)

امارات، بحرین، کویت، اردن، لبنان، عراق اور اسلامی تعاون کمیٹی نے واشنگٹن کے اس اعلان کے خلاف بیانات جاری کئے ہیں۔

دوسری طرف ترکی اور روس کی طرف سے شمالی حلب کے رفعت پہاڑی میں مشقوں کا آغاز ایسے وقت میں ہوا جب داعش نے شمالی شام کے منبج شہر کے اندر ایک حملہ کی ذمہ داری قبول کی اور یہ حملہ مشرقی شام میں داعش کے خاتمہ کے اعلان کے بعد پہلا حملہ ہے۔

بدھ 20 رجب المرجب 1440 ہجری – 27 مارچ 2019ء – شمارہ نمبر [14729]