پہلا صفحہ

ایرانی بندرگاہ کی وجہ سے روسی حلقہ میں غصہ کی لہر

لندن: ابراہیم حمیدی دمشق میں ماسکو ایرانی فریق کو مغربی شام کے اس لاذقیہ بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دینے کے فیصلہ کو منسوخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی وجہ سے ایران لاذقیہ اور طرطوس میں روس کے دونوں اڈوں کے قریب بحر متوسط میں پہلی مرتبہ قدم […]

ایرانی بندرگاہ کی وجہ سے روسی حلقہ میں غصہ کی لہر

لندن: ابراہیم حمیدی

دمشق میں ماسکو ایرانی فریق کو مغربی شام کے اس لاذقیہ بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دینے کے فیصلہ کو منسوخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی وجہ سے ایران لاذقیہ اور طرطوس میں روس کے دونوں اڈوں کے قریب بحر متوسط میں پہلی مرتبہ قدم رکھ سکا ہے۔

شامی ٹرانسپورٹ وزیر علی حمود نے گذشتہ 25 فروری کو لاذقیہ پورٹ کے جنرل سیکریٹری سے ایرانی فریق کی طرف سے اسٹیشن جو چلانے کے لئے ایک دستاویز کی تیاری کے سلسلہ میں ایرانی فریق کے ساتھ مذاکرہ کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ اقدام تہران کی طرف سے آنے والے مطالبہ کی وجہ سے کیا گیا تھا جس میں اس نے لاذقیہ پورٹ کے اسٹیشن کی انتظامیہ کی بات کی تھی اور کہا تھا اس کے ذریعہ شام کے اوپر جو قرض ہے وہ مکمل ہو جائے گا۔(۔۔۔)

ایک مغربی ڈپلومیٹک کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا ہے کہ لاذقیہ پورٹ کی انتظامیہ ایرانی فریق کو ملنے کی وجہ سے ماسکو میں غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس نے شام کے پانی پر تن تنہا قبضہ کرنے کے سلسلہ میں سوچ رکھا تھا۔(۔۔۔)

بدھ 27 رجب المرجب 1440 ہجری – 03 اپریل 2019ء – شمارہ نمبر [14736]