پہلا صفحہ

اسٹریٹیجک مفادات کے سلسلہ میں دمشق کے ہمنواؤں اور حریفوں کے درمیان مسابقہ

لندن: ابراہیم حمیدی دمشق کے ہمنواؤں اور حریفوں کی طرف سے اسٹریٹیجک مفادات کو حاصل کرنے اور معاشی وسیاسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور دباؤ ڈالنے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے اور ان اسٹریٹیجک مفادات سے آئندہ سالوں میں آنے والے شام کی ہر حکومت اس میں جکڑ جائے گی۔ […]

اسٹریٹیجک مفادات کے سلسلہ میں دمشق کے ہمنواؤں اور حریفوں کے درمیان مسابقہ

لندن: ابراہیم حمیدی

دمشق کے ہمنواؤں اور حریفوں کی طرف سے اسٹریٹیجک مفادات کو حاصل کرنے اور معاشی وسیاسی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے اور دباؤ ڈالنے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے اور ان اسٹریٹیجک مفادات سے آئندہ سالوں میں آنے والے شام کی ہر حکومت اس میں جکڑ جائے گی۔

مغربی ڈپلومیٹک ذرائع کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا ہے کہ شام ایران کے معاشی امتیازات روس کے کے لیے حساس ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ حساس طرطوس اور لاذقیہ میں روس کے دونوں اڈوں سے قریب لاذقیہ پورٹ کو دمشق کی طرف سے تہران کے حوالہ کرنے کی منطوری ہے کیونکہ اس اقدام کی وجہ سے ایران سب سے پہلے بحر متوسط میں پہنچ جائے گا اور تہران کے لیے متوسط کا راستہ کھلا رہے گا۔(۔۔۔)

اسی طرح روس اور ایران نے سنہ 2015ء میں دمشق کے فوجی نقصانات سے فائدہ اٹھا کر شام میں اپنے فوجی وجود کو بہم پہنچایا اور وہ دونوں اب اسٹریٹیجک مفادات کے حصول کے لئے معاشی بحران سے فایدہ اٹھانے والے ہیں۔(۔۔۔)

جمعرات 20 شعبان المعظم 1440 ہجری – 25 اپریل 2019ء – شمارہ نمبر [14757]