ٹینکر کو غائب کرنے کی وجہ سے ایران کی علیحدگی میں اضافہ
واشنگٹن: ایلی یوسف ۔ لندن: الشرق الاوسط پرسو ہرمز گذرگاہ میں ایران کی طرف سے برطانوی تیل ٹینکر کو روکے جانے کی وجہ سے اس کی علیحدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کی اس کاروائی کی مذمت بین الاقوامی سطح پر کی گئی ہے اور یوروپین […]

واشنگٹن: ایلی یوسف ۔ لندن: الشرق الاوسط
پرسو ہرمز گذرگاہ میں ایران کی طرف سے برطانوی تیل ٹینکر کو روکے جانے کی وجہ سے اس کی علیحدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران کی اس کاروائی کی مذمت بین الاقوامی سطح پر کی گئی ہے اور یوروپین ممالک کی طرف سے بڑی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور ان ممالک میں جرمن اور فرانس سر فہرست ہے اور ان ممالک نے تو اسے آزاد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور برطانیہ کے ساتھ ہونے کی بھی بات کہی ہے جبکہ برطانیہ کے وزیر خارجہ گریمی ہنٹ نے کہا کہ تہران نے اس کاروائی کے زریعہ بہت ہی خطرناک طریقہ اختیار کیا ہے لیکن ایران نے اس کا انکار کیا ہے اور اس کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے فون کے ذریعہ ان سے بات کرکے کہا کہ ٹینکر کو روکنا قانون کے ذریعہ کیا گیا ہے اور انہوں نے تہران کو بری قرار دیا کیونکہ ٹینکر نے ان کے اشارہ سے غفلت برتی لہذا اسے روک دیا گیا۔(۔۔۔)