پہلا صفحہ

مشرقی فرات کے معاہدہ کے بعد ادلب میں ترکی اور ماسکو کا امتحان

لندن: ابراہیم حمیدی انقرہ نے ادلب کے دیہی علاقہ کے اندر اپنی فوجی کمک بھیج دی ہے اور اس کا مقصد اس بات کو پرکھنا ہے کہ ماسکو مشرقی فرات کے پر امن علاقہ کے سلسلہ میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے فوجی معاہدہ کے چند دنوں بعد مغربی شام […]

مشرقی فرات کے معاہدہ کے بعد ادلب میں ترکی اور ماسکو کا امتحان

لندن: ابراہیم حمیدی

انقرہ نے ادلب کے دیہی علاقہ کے اندر اپنی فوجی کمک بھیج دی ہے اور اس کا مقصد اس بات کو پرکھنا ہے کہ ماسکو مشرقی فرات کے پر امن علاقہ کے سلسلہ میں انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے فوجی معاہدہ کے چند دنوں بعد مغربی شام کے شمال میں کشیدگی کو کم کرنے کے معاہدہ کی پابندی کس حد تک کرے گا۔

مغربی ڈپلومیٹک ذرائع نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ اس معاہدہ میں راس العین اور تل ابیب نامی دونوں شہروں کے درمیان ستر سے اسی کیلو میٹر لمبائی اور پانچ سے چودہ کیلو میٹر اندرون تک فوجی ترتیبات کرنے کی بات کی گئی ہے اور اسی طرح اس میں ترکی اور امریکی گشت کرنے اور کاروائیوں کی مشترکہ مرکز قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔(۔۔۔)

منگل 19 ذی الحجہ 1440 ہجری – 20 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14875]