پہلا صفحہ

جنوبی عبوری کونسل کو عتق کی جنگ میں سکشت کا سامنا

عدن: علی ربیع ۔ ریاض: عبد الہادی حبتور کل عتق کی وہ جنگ ختم ہو گئی جس میں جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کو سکشت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یمن کا جنوبی علاقہ شمال سے علاحدہ ہو گیا تھا۔ ایک طرف عبوری کونسل کے رہنماؤں نے اپنی سکشت کا اعتراف […]

جنوبی عبوری کونسل کو عتق کی جنگ میں سکشت کا سامنا

عدن: علی ربیع ۔ ریاض: عبد الہادی حبتور

کل عتق کی وہ جنگ ختم ہو گئی جس میں جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کو سکشت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ یمن کا جنوبی علاقہ شمال سے علاحدہ ہو گیا تھا۔ ایک طرف عبوری کونسل کے رہنماؤں نے اپنی سکشت کا اعتراف کیا ہے تو دوسری طرف مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ انہوں نے یافع، الضالع اور عدن میں موجود اپنی ہمنوا فورزس کی طرف سے غیر معمولی امداد حاصل کرنا شروع کر دیا ہے اور اب امید ہے کہ تقریبا جس طرح دو ہفتے قبل وقتی دار الحکومت عدن میں سرکاری اداروں اور فوجی ہیڈکوارٹروں پر حملے ہوئے ہیں اسی طرح اب عتق شہر پر کنٹرول کرنے کی دوبارہ کوشش ہوگی۔

سرکاری فورسز نے سواریوں کے اڈوں پر اپنا کنٹرول کر لیا ہے، شہر اور اس میں داخل ہونے کے تمام راستوں کو پرامن بنا دیا ہے اور اسی طرح عبوری فورسز کو بھی مار بھگایا ہے لیکن یہ سب عتق شہر میں علیحدہ افراد کی طرف سے ہونے والی جنگ کے بعد ہوا ہے اور یاد رہے کہ عتق شہر عدن کے مشرقی شمال میں واقع شبوہ نامی گورنریٹ کی دار الحکومت ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ 23 ذی الحجہ 1440 ہجری – 24 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14879]